انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxix of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxxix

انوار العلوم جلد ۱۴ ۳۳ تعارف کنند کتب بوجھل ہے تو یہ ابتلاء والاقبض ہے۔بسا اوقات خدا تعالیٰ امتحان لیتا ہے کہ میرا بندہ لذت کی خاطر مجھ سے تعلق رکھتا ہے یا اُسے مجھ سے حقیقی محبت ہے۔اگر انسان ثابت قدمی سے اس امتحان سے گزرجائے تو اس کی روحانیت ترقی کرتی ہے خدا کہتا ہے کہ جب میرے بندے نے اس حال میں بھی مجھ سے تعلق نہ تو ڑا جب وہ لذت سے محروم ہو گیا تو میں کیوں نہ اُسے ترقی دوں۔پس ایسے انسان کے قبض کے بعد والا بسط اُس کے پہلے بسط سے زیادہ اعلیٰ ہوتا ہے۔لیکن بعض لوگ قبض کی حالت میں خدا کو چھوڑ بیٹھتے ہیں ان کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔قوموں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔آنحضور ﷺ کے وقت بھی مسلمانوں پر بعض جنگوں میں قبض کے حالات آئے جس میں منافقین ٹھو کر کھا گئے مگر صحابہ ثابت قدم رہے اور ان کے ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے۔الغرض جب قبض کی حالت میں ایک مومن یہ سمجھتا ہے کہ یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے تو وہ قبض بھی فی الواقع نعمت بن جاتی ہے۔حضور نے اس فلسفے کو بعض مثالوں کے ساتھ واضح فرمایا اور جماعت کو نصیحت فرمائی کہ وہ ہمیشہ حُسن ظنی سے کام لے کیونکہ حسن ظنی ترقی کا موجب بنتی ہے اور بدظنی تنزل کا پیش خیمہ بنتی ہے۔اگر اللہ پر ہمیشہ شن ظن رکھیں تو ابتلاء بھی انعام بن جائیں گے۔(۲۸) مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر مؤرخہ ۲۷ دسمبر ۱۹۳۷ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر حضور نے جماعت سے ایک نہایت اہم خطاب فرمایا۔ابتداء حضور نے احباب جماعت کو درجہ ذیل تین اہم امور کی طرف توجہ دلائی۔الف جماعت کے اخبار الفضل اور دیگر رسائل کی اشاعت میں اضافہ کرنا۔ب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات اور کلمات کو اکٹھا کرنا۔ج تحریک جدید کے چندے میں باقاعدگی اختیار کرنا اور امانت تحریک جدید میں رقوم جمع کروانا۔اس کے بعد حضور نے شیخ عبد الرحمن مصری صاحب کے فتنہ کی تفصیل بیان فرمائی۔آپ نے اس واقعہ کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کی صداقت کا