انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 331

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) اول اس کی ضرورت اختصار ہے۔تشبیہہ اور استعارہ میں جس قدر اختصار پیدا ہو سکتا ہے وہ اور کسی طریق سے نہیں ہو سکتا۔اس طرح لمبے لمبے مضامین بعض دفعہ صرف ایک فقرہ میں آ جاتے ہیں۔مثلا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ وہ فَالِقُ الْإِصْبَاحِ یعنی صبوں کا پھاڑنے والا ہے۔اس جگہ اصباح جمع کا لفظ رکھا ہے اور پھر اس کے ساتھ فَالِق کا لفظ رکھا ہے اور گو بظاہر یہ دو لفظ نظر آتے ہیں لیکن اس مضمون کو اگر دیکھیں جو اس میں بیان کیا گیا ہے تو وہ بہت لمبا ہے۔یعنی دنیا میں قسم قسم کی تاریکیاں ہوتی ہیں اور ان تمام تاریکیوں کو دور کرنے کے کچھ ذرائع ہوتے ہیں جن کی آخری کڑی خدا ہے۔جب وہ کڑی تیار ہو جاتی ہے تو تاریکی دور ہو جاتی ہے اور فلق صبح ہو جاتا ہے۔ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ڈاکٹر اُن کا علاج کرتے ہیں مگر کیا ان کے علاج سے سارے مریض اچھے ہو جاتے ہیں؟ یقیناً تمام قسم کا علاج کرنے کے باوجود بعض مریضوں پر ایک وقت ایسا آ جاتا ہے جب ڈاکٹر کہہ دیتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔یہی حال ہر پیشے کا ہے۔وکیل کو لے لو تو اُسے وکالت میں ، انجنیئر کو لے لو تو اسے انجنیئر نگ میں ایک جگہ پہنچ کر رستہ بالکل بند نظر آتا ہے۔اور سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ اُس کی غیب سے مدد کرے۔پس ایسی حالت میں سوائے خدا کے اور کوئی مصیبت دور نہیں کر سکتا۔اور اسی کو فَالِقُ الْإِصْبَاح کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے لیکن اگر خالی یہ کہا جاتا کہ اللہ مشکلات کو دور کرنے والا ہے تو اس سے وہ مضمون ادا نہ ہوتا جو فَالِقُ الْإِصْبَاح کے الفاظ میں ادا ہوا ہے اور جو رات اور صبح کی کیفیت سے پیدا ہوتا ہے پس اس استعارہ نے لمبے مضامین کو نہایت مختصر الفاظ میں ادا کر دیا۔دوسرے استعارہ سے وسعت نظر پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہودیوں کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بندر اور سؤر بنا دیا۔اب اگر قرآن کریم یہ کہتا کہ ہم نے انہیں بے حیا بنا دیا تو ان الفاظ میں اس مضمون کا ہزارواں حصہ بھی ادا نہ ہوتا جو قِرَدَةً اور خَنَازِيُر کے الفاظ میں ادا ہوا ہے۔کیونکہ قردہ اور خَنَازِیر کی بیبیوں خصوصیتیں ہیں کوئی ایک خصوصیت نہیں۔مثلا بے حیائی بھی ایک خصوصیت ہے۔گندگی بھی ایک خصوصیت ہے۔خنزیر نہایت ہی گندہ ہوتا ہے اور یہودی بھی حد درجہ غلیظ ہوتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ جہاز کا سفر کیا تو کچھ یہودی بھی اس جہاز میں سوار ہو گئے۔میں نے انہیں دیکھا تو وہ اتنے گندے تھے کہ گویا چوہڑے ہیں۔مگر جب بمبئی جہاز پہنچا تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ نہایت زرق برق لباس پہنے