انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 326

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) گے یا پہلی کتابوں میں لکھا ہوا ہے وہیں تک اس کے معارف ہیں اُس کے لئے یہ کتاب بند رہتی ہے۔مگر جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس میں خزانے موجود ہیں وہ اس کے معارف اور علوم کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔کوئی سال ڈیڑھ سال کی بات ہے کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک سوال پوچھنا ہے۔مجھے اُس وقت جلدی تھی میں نے کہا کوئی مختصر سوال ہے یا تفصیل طلب؟ وہ کہنے لگا میں مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت چاہتا ہوں۔میں نے کہا مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت سارے قرآن سے ملتا ہے۔کہنے لگا کوئی آیت بتا ئیں۔میں نے کہا ممکن ہے میں جو آیت بتاؤں آپ کہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں وہ مطلب ہے۔اس لئے آپ ہی قرآن کی کوئی آیت پڑھ دیں۔میں اس سے مرزا صاحب کی صداقت ثابت کر دونگا۔اُس نے جلدی سے یہ آیت پڑھ دی کہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمُ بِمُؤْمِنِينَ ہے میں نے مختصراً اس آیت کا مضمون بیان کر کے اُسے بتایا کہ اس آیت سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔چنانچہ میں نے کہا۔آپ بتا ئیں آجکل مسجدوں میں لوگ کتنے جاتے ہیں؟ کہنے لگا بہت کم۔میں نے کہا پھر جو نما ز پڑھنے جاتے ہیں ان میں سے نماز کی حقیقت سے کتنے آگاہ ہوتے ہیں؟ کہنے لگا بہت ہی کم۔پھر میں نے کہا ان میں سے جو با قاعدہ پانچ وقت نمازیں پڑھتے ہیں ان کی تعداد کتنی ہوتی ہے؟ کہنے لگا ان کی تعداد تو اور بھی تھوڑی ہوتی ہے۔میں نے کہا خدا اس آیت میں یہ کہتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ وہ مومن نہیں ہوتے۔اب آپ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ آیت جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اُتری آج بھی اپنے مضمون کی صداقت ظاہر کر رہی ہے۔پھر اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی بدیاں آج پیدا ہوگئی ہیں تو کیا ان بدیوں کو دُور کرنے کیلئے مصلح نہیں آنا چاہئے تھا ؟ آخر یہ آیت اسی لئے قرآن میں آئی ہے تا اللہ تعالیٰ بتائے کہ ایسے گندے لوگ چونکہ دنیا میں موجود ہیں اس لئے ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔پھر اگر ایسے لوگوں کی اصلاح کیلئے قرآن کی ضرورت تھی ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت تھی تو جب کہ موجودہ زمانہ میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ اس آیت کا مضمون لوگوں کے عمل سے نظر آتا ہے تو جس اصلاح کا سامان خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کیا تھا وہ بھی ہونا چاہئے۔اس پر وہ