انوارالعلوم (جلد 14) — Page 317
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) الہامی کتب کے سمجھنے میں ایک وقت میرا آج کا مضمون اس بات پر ہے کہ ہر الہامی کتاب میں بعض ایسے مشکل مضامین ہوتے ہیں جن کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ آسانی سے حل نہیں ہوتے یا ان کے متعلق آپس میں بحث شروع ہو جاتی ہے۔کوئی کہتا ہے اس کا یہ مطلب ہے اور کوئی کہتا ہے اس کا وہ مطلب ہے۔ایسی صاف بات نہیں ہوتی جیسے مثلاً یہ حکم ہے کہ اَقِيْمُوا الصَّلوةَ نماز قائم کرو۔جو شخص عربی جانتا اور اسلام سے واقفیت رکھتا ہے وہ اَقِيْمُوا الصَّلوةَ سنتے ہی فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ نماز قائم کرو۔یہ جھگڑا پیدا نہیں ہوتا کہ اَقِیمُوا الصَّلوةَ سے مراد نماز نہیں روزہ ہے یا روزہ نہیں حج ہے۔آگے نماز کی کیفیات میں فرق ہوسکتا ہے خشوع خضوع میں فرق ہو سکتا ہے عرفان میں فرق ہو سکتا ہے مگر اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ نماز قائم کر و۔بلکہ جونہی کسی کے منہ سے یہ فقرہ نکلے گا کہ اَقِيْمُوا الصَّلوةَ یا قرآن کریم میں یہ حکم دیکھے گا فوراً سمجھ جائے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نمازیں پڑھو۔مگر جو مشکل مسائل ہوتے ہیں اُن کو بعض لوگ سمجھتے ہیں اور بعض نہیں سمجھتے اور اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ جو باخبر ہیں انہیں وہ مسائل سمجھا ئیں۔خواہ اس وجہ سے کہ وہ خود غور نہیں کرتے یا اس وجہ سے کہ ان کا دل کسی گناہ کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا فضل جذب کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔یہ مشکل مضامین بالعموم دو طرح کے ہوتے ہیں ایک علمی مضامین جو بار یک فلسفے پر مبنی ہوتے ہیں مثلاً تو حید ہے اس کا اتنا حصہ تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ خدا ایک ہے مگر آگے یہ صوفیانہ باریکیاں کہ کس طرح انسان کے ہر فعل پر خدا تعالیٰ کی توحید کا اثر پڑتا ہے اس کیلئے ایک عارف کی ضرورت ہوگی اور یہ مسائل دوسرے کو سمجھانے کیلئے کوئی عالم درکار ہو گا ہر شخص یہ باریکیاں نہیں نکال سکتا لیکن اتنی بات ضرور سمجھ لے گا کہ قرآن دوسرے خدا کا قائل نہیں۔دوسرے یہ مشکلات ایسے مطالب کے متعلق پیدا ہوتی ہیں جو علمی تو نہ ہوں مگر وہ اُس زبان میں بیان کئے گئے ہوں جسے تشبیہہ اور استعارہ کہتے ہیں۔استعارہ میں جب بھی بات کی استعارات کو حقیقت قرار دینے کا نتیجہ جائے تو گو وہ باریک نہیں ہوتی مگر عوام الناس اُس زبان کو نہ جاننے کی وجہ سے اس کے ایسے معنی کر لیتے ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔جب شام کی