انوارالعلوم (جلد 14) — Page 308
انوارالعلوم جلد ۱۴ مستورات سے خطاب میں کیا رکھا ہے میں حضرت صاحب سے آسان فیصلہ کر آیا ہوں کہ آپ قرآن سے دس آیتیں حیات مسیح کی تائید میں لکھ دیں اور حضرت صاحب تو کہتے تھے کہ ایک ہی لے آؤ مگر آپ دس لکھ دیں۔مولوی صاحب سخت برہم ہوئے اور کہنے لگے کہ میں تو دو مہینے کی سخت تکلیف اور بحث کے بعد نورالدین کو حدیث کی طرف لا رہا تھا اور تم پھر قرآن کی طرف لے جا رہے ہو۔میاں نظام الدین ایک منصف مزاج آدمی تھے کہنے لگے کہ اچھا جدھر قرآن ادھر ہم۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم بچے راستے پر ہیں اور قرآن وحدیث وصلحائے امت ہمارے ساتھ ہیں۔ایسے ہی طریق ہیں سیدھا راستہ چلنے کیلئے جن پر تحریک جدید جاری کی گئی ہے۔اگر مرد و عورت اس کو اچھی طرح سمجھ لیں تو بس خدا کی نصرت ہمارے ساتھ ہو گی۔راستہ درست ہے اور اگر ترقی نہیں ہورہی تو یہ ہماری کمزوری ہے۔مثلا تلوار تو ہے لیکن تلوار چلانی نہیں آتی۔قصہ ہے کہ ایک بادشاہ کا ایک اردلی تھا جو تلوار کے ایک وار میں گھوڑے کے چاروں پیر کاٹ دیا کرتا تھا بادشاہ کے لڑکے نے دیکھا کہ یہ تلوار ایک وار میں گھوڑے کے چاروں پیر کاٹ دیتی ہے پس یہ تلوار بہت اچھی ہے۔اس نے اردلی سے کہا کہ یہ تلوار مجھے دیدو۔اس نے تلوار نہ دی۔وہ روتا ہوا بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں نے اردلی سے تلوار مانگی تھی لیکن اُس نے نہ دی۔بادشاہ نے اردلی کو بلا کر کہا کہ تم کیسے نمک حرام نوکر ہو کہ ہمارا لڑکا تم سے تلوار مانگتا ہے اور تم نہیں دیتے۔سپاہی نے لڑکے کو تلوار دیدی لڑکے نے گھوڑے کے پاؤں کاٹنے چاہے مگر وہ نہ کئے وہ روتا ہوا پھر باپ کے پاس گیا بادشاہ نے پھر سپاہی کو بلایا کہ تم نے ہمارے لڑکے کو وہ تلوار نہیں دی۔سپاہی نے کہا حضور ! بات یہ ہے کہ تلوار تو وہی ہے لیکن ان کو چلانا نہیں آتی۔تو بات یہ ہے کہ چلانے والا تو سپاہی تھا تلوار کی اس میں کیا خوبی ہے۔پس اسی طرح دیکھو کہ قرآن ایک تلوار ہے۔یہی قرآن مولویوں کے ہاتھ میں مُردہ تھا۔یہی قرآن ہمارے ہاتھ میں تلوار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں قرآن کی تلوار چلانا سکھائی ہے اب اس تلوار کے ہوتے ہوئے فائدہ نہ اُٹھاؤ تو تمہارا اپنا قصور ہے۔تمہیں اپنے نفسوں پر غور کرنا چاہئے کہ احمدی ہو کر تم نے کیا فائدہ اُٹھایا۔لاکھوں روپیہ خرچ کر کے کوئی نتیجہ نہ نکلے تو کس قدر افسوس کی بات ہے۔ایک جلسہ ہی کو دیکھوا کثر ہمارے گاؤں کی عورتیں کہتی ہیں ہم جلسہ کھانے چلی ہیں۔کیا یہی غرض ہے اور اس سردی کے موسم میں بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر یہاں آتی ہو؟ اُن ریلوں میں سفر کرتی ہو جن میں دم گھٹتا ہے، یہاں آ کر کھوری پر سوتی ہو، تیلی دال کھاتی ہو