انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 284

انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر سابق بادشاہ ایام بادشاہت میں یہ شادی کرتے تو ضرور فساد ہو جاتا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بادشاہ کے خلاف شور کرنے والے لوگ تھوڑے ہوتے اور بادشاہ کی تائید کرنے والے زیادہ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ملک کے مقبول اخبار جو پچاس پچاس لاکھ شائع ہوتے ہیں، سب بادشاہ کے حق میں تھے اور بعض ممبران پارلیمنٹ نے تو پارلیمنٹ میں صاف کہہ دیا تھا کہ اگر بادشاہ نے شادی کی اور ملک سے رائے لی گئی تو ملک بادشاہ کے حق میں رائے دے گا۔اور اس وقت بھی جو ملک میں سابق بادشاہ کے خلاف عام ناراضگی ہے وہ اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے عورت کی خاطر بادشاہت چھوڑی ، بلکہ اکثریت کو یہ ناراضگی ہے کہ کیوں انہوں نے شادی نہ کر لی اور ہم پر اعتبار نہ کیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابق بادشاہ نے پھر کیوں شادی نہ کی اور بادشاہت سے دست بردار ہو گئے۔یا پھر کیوں تخت چھوڑا اور شادی کا خیال نہ چھوڑا۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ بادشاہ کو یہ یقین ہو چکا تھا کہ اگر تخت پر رہتے ہوئے میں نے شادی کی تو ملک میں فساد ضرور ہو گا گوا کثریت میرے ساتھ ہوگی لیکن پھر بھی ایک زبردست اقلیت مقابلہ پر کھڑی ہو جائے گی اور اسی طرح بعض نو آبادیاں بھی شورش پر آمادہ ہو جائیں گی۔بادشاہ نے آخری جد وجہد یہ کی کہ وزراء سے کہہ دیا کہ آپ لوگوں کو ایک مطلقہ عورت کے ملکہ ہونے پر ہی اعتراض ہو سکتا ہے۔سو میں اس کیلئے بھی تیار ہوں کہ ایک خاص قانون بنا دیا جائے کہ میری بیوی ملکہ نہ ہوگی لیکن وزارت نے اس سے بھی انکار کیا۔پس صورتِ حالات یہ پیدا ہوگئی کہ ایک طرف تو اس مشکل کا واحد حل کہ بادشاہ کی بیوی ملکہ نہ ہو، وزارت نے مہیا کرنے سے انکار کر دیا، دوسری طرف بادشاہ دیکھ رہے تھے کہ میرے سامنے دو چیزیں ہیں ، ایک طرف ملک نہیں بلکہ ملک کی ایک اقلیت کی خواہش کہ ایک مطلقہ عورت سے شادی نہیں کرنی چاہئے اور دوسری طرف یہ سوال کہ ایک عورت جو مجھ سے شادی کیلئے تیار ہے اور جس سے شادی کا میں وعدہ بھی کر چکا ہوں ، اُس کو اس وجہ سے چھوڑ دوں کہ چونکہ تو مطلقہ ہے اس لئے میرے ساتھ شادی کے قابل نہیں۔ایک طرف ایک اقلیت ہے جسے قانون کوئی حق نہیں دیتا اور دوسری طرف ایک ایسے وجود کو زیر الزام لا کر چھوڑنا ہے جسے قانون شادی کا حق بخشتا ہے۔یقیناً ایسی صورت میں بادشاہ کیلئے ایک ہی راستہ کھلا تھا کہ وہ اس کا ساتھ دیتے جس کے ساتھ قانون تھا لیکن چونکہ ایسا کرنے میں ملک میں فساد کا اندیشہ تھا ، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اس عورت کی