انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 208

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔۔۔وہ حیران ہوئے کہ خزانہ کہاں چلا گیا۔پھر خیال آیا کہ شاید کوئی چور نکال کر لے گیا ہو۔مگر اس کے بعد جب انہوں نے اسی کھیت میں کھیتی ہوئی تو بوجہ اس کے انہوں نے کھود کر تمام زمین کو نرم کر دیا تھا، فصل خوب ہوئی اور دوسروں سے کئی گنے زیادہ اناج پیدا ہوا۔انہوں نے ایک دن اتفاقا کسی سے ذکر کیا کہ ہمارے باپ نے مرتے وقت کہا تھا کہ اس زمین میں خزانہ مدفون ہے ہم نے تمام زمین کھود ڈالی مگر خزا نہ کہیں سے نہیں ملا۔وہ کہنے لگا بیوقوفو! یہی تو خزانہ ہے جو کئی گنے زیادہ اناج کی صورت میں تمہیں مل گیا۔اگر تمہارا باپ تمہیں یہ کہتا کہ زمین خوب کھودنا اس سے فصل اچھی ہو گی ، تو تم کب اس کی بات مانتے۔تم کہتے کیا بے وقوفی کی بات ہے جس طرح دوسرے لوگ فصل ہوتے ہیں ، اسی طرح ہم کیوں نہ ہوئیں۔مگر جب اس نے خرانے کا لفظ بول دیا تو تم سب مل کر زمین کھود نے لگ گئے اور اس طرح تمہیں دوسروں سے کئی گنے زیادہ غلہ مل گیا۔یہی تو خزانہ ہے جو تمہیں اپنے باپ کی وجہ سے ملا۔تو چیز ایک ہی ہوتی ہے مگر رنگ بدل دیا جاتا ہے۔وہی چیز جو آدم کے ہاتھوں دنیا میں قائم ہوئی، وہی نوح کے ذریعہ قائم ہوئی ، وہی ابرا ہیم کے ذریعہ قائم ہوئی، وہی موسیٰ کے ذریعہ قائم ہوئی، وہی عیسی کے ذریعہ قائم ہوئی اور وہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قائم ہوئی۔کامیابی کا گر سب کا ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ جب شیطان خدا تعالیٰ کی بادشاہت پر حملہ کرے تو اُس وقت مومن اُٹھے اور اپنی جان دے دے۔جب تک مومن خدا تعالیٰ کیلئے جان دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا، جب تک خدائی قلعہ کی حفاظت کیلئے وہ ہر قسم کی قربانیوں پر آمادہ نہیں ہوتا ، اُس وقت تک خدا تعالیٰ کی نصرت اس کیلئے نہیں اُترتی۔اس چیز کا کوئی نام رکھ لو۔تحریک جدید رکھ لو، تحریک قدیم رکھ لو، دین حنیف رکھ لو، دین موسوی رکھ لو، دین عیسوی رکھ لو، بات ایک ہی ہے، گر ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ خدا اپنے مومن بندوں سے قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔اگر بندے اس کیلئے جان دینے کیلئے تیار ہوں تو خدا تعالیٰ ان کی جان بچانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے اور اگر بندے خدا تعالیٰ کیلئے اپنی جان دینے کیلئے تیار نہ ہوں تو خدا تعالیٰ ان کی جان بچانے کیلئے بھی تیار نہیں ہوتا۔جب تک انسان اُس گر پر عمل کرتا رہے گا خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد اس کے شامل حال رہے گی۔اور جب اُس گر پر عمل کرنا چھوڑ دے گا ، خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد بھی اس سے چھین لی جائے گی۔بہر حال ضروری ہے کہ انسان ہر قسم کی قربانیوں کیلئے تیار رہے اور کوئی قربانی ایسی نہ ہو جس کے کرنے سے وہ ہچکچائے۔خواہ وہ مال کی قربانی ہو، خواہ جان کی قربانی ہو، خواہ عزت کی قربانی ہو ،خواہ