انوارالعلوم (جلد 14) — Page 209
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔۔۔وجاہت کی قربانی ہو، خواہ وطن کی قربانی ہو، خواہ جذبات اور احساسات کی قربانی ہو ، ہر قسم کی قربانی کیلئے وہ تیار ہو۔خدا تعالیٰ کبھی شرطیں کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔باقی انسان تو شرطیں کر لیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کبھی شرطیں نہیں کرتا۔اس کی طرف سے صرف یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ جو اس سے تعلق رکھنا چاہتا ہے وہ بلا شرط اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کر دے۔اگر وہ مال کے بارہ میں اس کا امتحان لینا چاہے تو وہ مالی امتحان کیلئے تیار ہو، اگر جان کے بارہ میں اس کا امتحان لینا چاہے تو جانی امتحان کیلئے تیار ہو ، اگر وطن کے بارہ میں اس کا امتحان لینا چاہے تو وطن کے امتحان کیلئے تیار ہو ، اگر عزت کے بارہ میں اس کا امتحان لینا چاہے تو عزت کے امتحان کیلئے تیار ہو۔اور اگر عزیر واقارب اور رشتہ داروں کے بارہ میں امتحان لینا چاہے تو اس امتحان کیلئے تیار ہو۔ان میں سے کونسی قربانی ہے جسے ہم بڑا یا چھوٹا کہہ سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے نوح کا امتحان اس رنگ میں لیا کہ ان کے بیٹے کو مذہباً ان سے جدا کیا ، خدا تعالیٰ نے ابراہیم کا امتحان اس طرح لیا کہ ان کے ہاتھ سے اپنے بیٹے پر چھری چلوانی چاہی ، خدا تعالیٰ نے لوڈ کا امتحان اس طرح لیا کہ ان کی بیوی ان سے الگ رہی ، خدا تعالیٰ نے موسیٰ کا امتحان اس طرح لیا کہ ان کا وطن ان سے چھڑایا، اسی طرح خدا تعالیٰ نے عیسی کا امتحان لیا کہ انہیں صلیب پر لٹکا دیا۔کوئی کہ سکتا ہے کہ ان میں سے فلاں قربانی چھوٹی ہے اور فلاں بڑی۔یہ تو خدا تعالیٰ کی مصلحت ہوتی ہے کہ وہ کسی قوم کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جس طرح چاہتا ہے، اس کا امتحان لیتا ہے۔مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ سارے امتحان اپنی اپنی جگہ پر حکمت ہیں اور یہ امتحان اللہ تعالیٰ انسان کے فائدہ کیلئے لیتا ہے۔خواہ کسی انسان کا وہ امتحان لے جو اس نے حضرت نوح علیہ السلام سے لیا، خواہ وہ امتحان لے جو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیا ، خواہ وہ امتحان لے جو اس نے حضرت لوط علیہ السلام سے لیا۔خواہ وہ امتحان لے جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لیا ، خواہ وہ امتحان لے جو اس نے حضرت عیسی علیہ السلام سے لیا اور خواہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح سارے امتحان ہی اُس سے لے، کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قریب ترین وجودوں سے بھی خدا تعالیٰ نے چھڑایا۔چنانچہ ان کے اپنے چا ایمان سے محروم رہے، ان سے وطن بھی چھڑایا اور انہیں دشمنوں نے صلیب کی قسم کی تکالیف بھی دیں جیسے اُحد کی جنگ میں آپ میہ پر پتھر پھینکے گئے اور آپ بے ہوش ہو گئے۔کے واقعہ صلیب کیا تھا ؟ یہی کہ ہاتھ پاؤں میں کیل گاڑے گئے جس سے حضرت عیسی علیہ السلام