انوارالعلوم (جلد 14) — Page 159
انوار العلوم جلد ۱۴ منتظمین جلسہ سالانہ کو ہدایات نے خود اپنا نمایندہ جلسہ سالانہ کی کارروائی معلوم کرنے کیلئے مقرر کیا تھا۔بہر حال وہ کام اگر کچھ ہوا بھی ہو تو مسلمین جلسہ یا نظارت دعوۃ و تبلیغ کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔کیونکہ دعوة سٹیٹسمین نے خود اپنے پنجاب کے نمائندہ کو لکھ کر قادیان میں اپنی طرف سے نمائندہ مقرر کرایا تھا۔پس اس کے کام سے ہمارے منتظم فائدہ نہیں اُٹھا سکتے اور نہ اسے اپنی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔اس امر کی طرف بھی میں توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس دفعہ جلسہ سالانہ کے متعلق رپورٹیں مجھے بہت بے قاعدہ ملیں۔ایک دن تو ایک بجے رات تک میں بیٹھا رہا اور ر پورٹوں کا انتظار کرتا رہا۔دوسرے دن رپورٹ طلب کی گئی تو معلوم ہوا کہ دفتر بند ہو چکے ہیں اور کارکن چھٹی کر گئے ہیں۔میں نے کہا انہیں جگاؤ اور ان سے رپورٹ مانگو۔چنانچہ انہیں جگایا گیا اور ان سے رپورٹ لی گئی۔میں امید کرتا ہوں آئندہ کا رکن زیادہ ہوشیاری کے ساتھ مجھے رپورٹیں بھجوائیں گے۔یہ رپورٹ ایسی ضروری چیز ہے کہ میں اسی سے باقی کاموں کا اندازہ کر سکتا ہوں۔لیکن اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ مجھ تک رپورٹ پہنچانے میں بھی سستی سے کام لیا گیا ہے تو میرا حق ہے کہ میں یہ خیال کروں باقی کاموں میں کارکنوں نے بہت زیادہ سستی دکھائی ہے۔گورداسپور کی جماعت کے متعلق شکوہ کیا گیا ہے کہ اس کی تعداد کے مطابق جگہ اور آدمی مقر ر نہیں کئے جاتے میرا اکیس سالہ تجربہ یہ ہے کہ گورداسپور کی جماعتوں کو جو شکایتیں پیدا ہوتی ہیں ، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ گورداسپور کے ضلع کی جماعتوں سے بھینی اور منگل کی جماعتیں مراد ہیں اور یہ خیال نہیں آتا کہ ان جماعتوں میں سے بھی کئی جماعتیں پندرہ پندرہ بیس میں میل کے فاصلہ پر رہتی ہیں اور ان کو بھی قادیان آنے کا اتنا ہی کم موقع ملتا ہے جتنا امرتسر اور لاہور کی جماعتوں کو۔بلکہ امرتسر اور لاہور کی بعض جماعتیں گورداسپور کی بعض جماعتوں سے زیادہ قریب ہیں۔مگر فرض کر لیا جاتا ہے کہ ضلع گورداسپور کی جماعتیں چونکہ ہمارے قریب ہیں اس لئے ان کا یہاں آنا کوئی ایسی چیز نہیں جسکی وجہ سے ہمیں خاص اہتمام کی ضرورت ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض جماعتیں سُست ہو جاتیں اور احمدیت سے ان کا تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔چنانچہ موضع شکار میں سینکڑوں کی جماعت تھی ایک دفعہ میں نے فوج میں داخل ہونے کی تحریک کی تو اس جماعت نے ستر رنگروٹ دیئے جو جماعت ستر رنگروٹ دے سکتی ہے اس کے متعلق اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتنی بڑی جماعت ہوگی۔میرا اندازہ ہے کہ وہ جماعت چھ سات سو سے کم نہ تھی لیکن اب وہ جماعت بالکل مُردہ ہے اور صرف تمہیں چالیس