انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 148

دنیا کی سیاسیات میں احمدیت کیا تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے؟ انوار العلوم جلد ۱۴ کہ ہم فساد سے بچیں۔مومن فساد سے بچنے کی انتہائی کوشش کرتا ہے مگر جب واقعات و حالات اسے اس مقام پر کھڑا کر دیں جہاں اس کی غیرت کا امتحان لینا مقصود ہو تو پھر وہ دنیا کی کسی چیز کی پرواہ نہیں کیا کرتا۔پس اپنا پورا زور لگا ؤ جیسا کہ دوسرے ایام میں میں قادیان کے احمد یوں کو کہتا ہوں کہ کسی قسم کا فتنہ نہ پیدا ہو تا کہ ہم بجائے کسی اور تدبیر کے اپنی احتیاط سے ہی دشمن کے حملہ کو روک دیں۔احمدیت اور سیاسیات عالم اس کے بعد حضور نے اس مضمون پر تقریر فرمائی کہ اسلام اور احمدیت سیاسیات کے متعلق کیا تعلیم پیش کرتی ہے۔اس مضمون کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ:۔بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اس کے مطابق ہمیں یقین ہے کہ بادشاہ احمدیت میں داخل ہوں گے لیکن جب وہ بادشاہ آئیں گے تو انہیں کون بتائے گا کہ تمہارے کیا فرائض ہیں۔اگر آج ہم قرآنی تعلیم سے اخذ کر کے وہ فرائض اپنی کتابوں میں نہیں لکھ دیں گے جو بادشاہوں اور حکومتوں کے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ دنیوی بادشاہوں کی نقل کریں گے اور اس کا نتیجہ بجز تباہی کے اور کچھ نہیں ہوگا۔پس آپ لوگوں میں سے ہر ایک کو معلوم ہونا چاہئے کہ احمدیت کس قسم کی بادشاہت دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے تا جب بادشاہت آئے اور اُس وقت کے بادشاہ کسی اور رنگ میں کام کرنا چاہیں تو فوراً ان کو بتا دیا جائے کہ تم یوں حکومت کرو۔ہم تمہیں وہ باتیں قرآن مجید سے اخذ کر کے بتاتے ہیں جن کے ماتحت تمہارے لئے کام کرنا ضروری ہے۔مندرجہ ذیل وجوہ سے اس مضمون کا بیان کرنا ضروری ہے۔اول: اس لئے کہ اس سے اسلام کی برتری ثابت ہوتی ہے۔دوم : اس لئے کہ جماعت کو اپنے مقاصد سے آگاہ رہنا چاہئے۔سوم : دنیا کے ذہنوں کو اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھال کر اسلامی نظام کے مطابق چلنے کی راہ کھولنے کے لئے اس کا بیان کرنا ضروری ہے۔چہارم : احمدیت کی تبلیغ کیلئے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ قرآنی علوم دنیا سے پوشیدہ ہو چکے تھے۔اب جب ہم انہیں پھیلائیں گے تو مسلمانوں کو معلوم ہوگا کہ قرآن کی حقیقی خدمت کرنے