انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 147

انوارالعلوم جلد ۱۴ دنیا کی سیاسیات میں احمدیت کیا تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے؟ کے روپے چرائے ہیں اسی طرح مردوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ایک آدمی کے متعلق تو سنا ہے کہ اس کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔اسی طرح اور رنگوں میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے مثلاً بد نیتی اور بد ارادہ سے جو لوگ آئے ہیں انہوں نے جماعتوں میں شامل ہو کر مجھ تک پہنچنے یا ان احمد یوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، اسی طرح بعض نے بچوں کو اُٹھانے کی کوشش کی ہے اور بعض نے مستورات کو بھی دھوکا سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ ہوشیار پور کی ایک احمدی عورت جو رستہ بھول گئی تھی ، اس نے ایک ایسی گلی میں جو احمد یوں کی نہیں کسی سے ہمارے مکان کا رستہ پوچھا، تو اسے ایک تاریک کوٹھڑی بتا کر کہا گیا اس میں داخل ہو جاؤ۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کرنی تھی ، اس نے پہلے ہمارا مکان دیکھا ہوا تھا اس لئے اس نے کہا یہ تو وہ مکان نہیں جہاں میں جانا چاہتی ہوں۔پھر ایک سقہ اُس گلی میں سے گزرا تو اُس نے اسے صحیح راستہ بتایا۔ب ایسے کمینہ دشمن سے واسطہ ہو جو روپے دے کر ا و باشوں اور آوارہ گردوں سے شرفاء پر حملے کرائے ، جب ایسے کمینہ دشمن سے واسطہ پڑا ہو جو عورتوں کا احترام اپنے دل میں نہ رکھتا ہو اور جب ایسے کمینہ دشمن سے واسطہ پڑا ہو جو بچہ کے دل کے صدمہ کی قیمت نہ سمجھتا ہو، تو اس وقت جماعت کو بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔چونکہ دوست اب بھی کچھ دن تک یہاں ٹھہریں گے اس لئے اپنی مستورات کو ہدایت کر دیں کہ وہ سوائے اس بڑی گلی کے جہاں پہرہ کا انتظام کر دیا گیا ہے، دوسری جگہوں میں سے نہ گزریں۔اگر کسی اور گلی میں کسی احمدی کا گھر ہو تو اس کے گھر میں بھی مستورات سے ملنے کیلئے نہ جائیں جب تک مرد ساتھ نہ ہو۔اسی طرح اگر کسی کی بغل میں کوئی ایسا بچہ دیکھو جو رورہا ہو تو چاہے وہ شخص ہزار قسمیں کھائے کہ یہ میرا بچہ ہے یا میں اس کا فلاں رشتہ دار ہوں ، اسے نہ چھوڑو جب تک کہ مرکز کے افسروں یا پولیس کے ذریعہ اس کی تحقیقات نہ کر لو۔دشمن چاہتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح فساد کرائے اور فساد کے یہ بہت بڑے ذرائع ہیں کہ کسی عورت کی ہتک کر دی یا کوئی بچہ اُٹھا کر لے گئے۔روپیہ چرانے سے بھی دوسرے کو نقصان پہنچتا ہے مگر عورت کی ہتک یا بچہ کا اٹھا لینا ایسا جذباتی نقصان ہے کہ ہزاروں طبائع کیلئے اس کا برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس قسم کے حملوں کو برداشت کرنا بے غیرتی میں داخل ہوتا ہے۔دشمن کی نیت اس وقت فساد کرانا ہے اور ہماری نیت یہ ہے