انوارالعلوم (جلد 14) — Page 105
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت کیں۔پس اللہ تعالیٰ نے آسمان سے وہ موقع پیدا کیا جس کا میں ایک عرصہ سے منتظر تھا اور میں نے تحریک جدید پیش کر دی۔اگر جماعت اس تحریک کو سمجھ لے اور اس پر عمل کرے تو جہاں اس کی ترقیات میں حیرت انگیز زیادتی ہو جائے، وہاں جو یہ اعتراض بالعموم کیا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو پہلے انبیاء کی جماعتوں جیسا کام نہیں کرنا پڑا دور ہو جاتا ہے۔اور آج میں اسی وجہ سے اختصار کے ساتھ بعض وہ بنیادی اصول بیان کرنا چاہتا ہوں جو اس تحریک کے اندر کام کر رہے ہیں۔اوّل اس تحریک کے ماتحت یہ اصل میرے مدنظر تھا کہ جماعت میں طوعی قربانی کا مادہ پیدا ہو۔قربانیاں دو قسم کی ہوا کرتی ہیں۔ایک جبری جن میں ہر فرد بشر کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ خاص قسم کی قربانی کرے۔دوسری طوعی جنہیں لوگوں کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ان قربانیوں میں حصہ لیں اور اگر نہ چاہیں تو نہ لیں۔پھر طوعی قربانیاں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک انفرادی اور ایک جماعتی۔انفرادی قربانیاں گوافراد کے اندر جوش پیدا کر دیتی ہیں مگر بحیثیت مجموعی جماعت میں انفرادی طوعی قربانیوں سے جوش پیدا نہیں ہوتا۔انفرادی طوعی قربانیوں کی ایسی ہی مثال ہے جیسے تہجد ، کہ ہر شخص اپنی اپنی جگہ اگر چاہے تو رات کو اٹھ کر عبادت کر سکتا ہے۔یہ نفلی قربانی ہے اور انفرادی ہے۔مگر چونکہ نفلی قربانیوں میں انسان کو اس کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا ہے اس لئے ان قربانیوں میں جبری قربانیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ جوش پیدا ہوتا ہے۔اسی لئے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی وحی سے بتایا ہے کہ میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایسا وقت آ جاتا ہے کہ اگر وہ ایک قدم میری طرف چلتا ہے تو میں دو قدم چل کر اس کی طرف جاتا ہوں۔اور اگر وہ چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس پہنچتا ہوں۔پھر ہوتے ہوتے اس قدرا سے میرا قرب حاصل ہو جاتا ہے کہ میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ کام کرتا ہے ، اس کے کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، گویا بندہ خدا ہی بن جاتا ہے۔تو نفلی قربانیاں ہی ہیں جو انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب کرتی ہیں۔یہ قربانیاں جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ایک انفرادی ہوتی ہیں اور ایک جماعتی۔انفرادی کی تو ایسی ہی مثال ہے جیسے تہجد کہ کوئی اُٹھتا ہے اور کوئی نہیں اُٹھتا۔اور جماعتی طوعی قربانیوں کی ایسی ہی مثال ہے جیسے رمضان میں تراویح۔ہر شخص جانتا