انوارالعلوم (جلد 14) — Page 102
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت بھی مباہلہ کا چیلنج موجود ہے۔اگر وہ مباہلہ کرنا چاہتے ہیں تو لا ہور یا گورداسپور میں مباہلہ کر لیں ہمیں مباہلہ کرنے سے ہرگز انکار نہیں۔مگر مجھے یقین ہے کہ وہ مباہلہ کیلئے نہیں آئیں گے کیونکہ ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے اور دیدہ دانستہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ورنہ کیا وجہ ہے جس طرح میں نے مؤکد بعذاب قسم شائع کر دی تھی، وہ بھی مؤكد بعذ اب حلف شائع نہیں کر دیتے۔جس دن میری طرف سے یہ قسم شائع ہوئی تھی کہ : اے خدا! ایک جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے اس قسم کا دھوکا دینا نہایت خطرناک فساد پیدا کر سکتا ہے پس اگر میں نے اوپر کا اعلان کرنے میں جھوٹ ، دھو کے یا چالبازی سے کام لیا ہے تو مجھ پر اور میرے بیوی بچوں پر لعنت کر۔لیکن اگر اے خدا! میں نے یہ اعلان سچے دل سے اور نیک نیتی سے کیا ہے تو پھر اے میرے رب ! یہ جھوٹ جو بانی سلسلہ احمدیہ کی نسبت ، میری نسبت اور سب جماعت احمدیہ کی نسبت بولا جاتا ہے تو اس کے ازالہ کی خود ہی کوئی تدبیر کر اور اس ذلیل دشمن کو جو ایسا گندہ الزام ہم پر لگاتا ہے یا تو ہدایت دے یا پھر اسے ایسی سزا دے کہ وہ دوسروں کیلئے عبرت کا موجب ہو۔“ تو اُس دن میری طرف سے مباہلہ کی ذمہ داری پوری ہوگئی اور میں آج کہتا ہوں کہ اگر احرار کیلئے جمع ہونا مصیبت ہے وہ پانچ سو یا ہزار افراد اپنے ساتھ نہیں لا سکتے تو میری قسم کے الفاظ کو الٹا کر اور انہیں دُہرا کر اپنے پانچ لیڈروں کی طرف سے شائع کر دیں اور لکھ دیں کہ:۔”اے خدا ! ہمیں یقین ہے احمدی رسول کریم ﷺ پر ایمان نہیں رکھتے نہ آپ کو دل سے خاتم النبیین سمجھتے ہیں۔اور آپ کی فضیلت اور بزرگی کے قائل نہیں بلکہ آپ کی توہین کرنے والے اور مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بج جانے پر بھی خوش ہونے والے ہیں۔اے خدا! اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر اپنا عذاب نازل کر۔جس دن وہ اپنے میں سے پانچ لیڈروں کی طرف سے اس قسم کی مؤکد بعذ اب حلف اپنے اخبار میں شائع کر دیں گئے اُسی دن میں سمجھ لونگا کہ میرا احرار سے مباہلہ ہو گیا۔لیکن میں یقین رکھتا ہوں وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔اس کے بعد میں تحریک جدید کے متعلق بعض باتیں کہنا چاہتا ہوں۔میں نے اس کا نام