انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 91

انوار العلوم جلد ۱۴ غلط فہمی پیدا نہ ہو۔تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی اور آپ کو جو رویا و کشوف ہوئے ، وہ جماعت کے آئندہ پروگرام کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں ان میں قرآن اور حدیث کی اعلیٰ درجہ کی تفسیر بھی ہے اس لئے اپنے ایمانوں کے ازدیاد اور قرآن کریم کی تفہیم کے لئے ان کا مطالعہ رکھنا نہایت ضروری ہے۔دیکھو کس طرح احرار کے فتنہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک لمبا عرصہ قبل وضاحت کے ساتھ خبر دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ حکومت اس امر کا یقین کر لینے کے بعد کہ جماعت احمدیہ فتنوں اور فسادوں سے ہمیشہ بچتی ہے، ایک شخص کی کوشش سے اس وہم میں مبتلا ہو جائے گی کہ شاید یہ جماعت اپنی حکومت قائم کر رہی ہے اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قائم کردہ سلسلہ اور حکومت میں جُدائی ہو جائے گی۔پھر دوبارہ وہی شخص احمدیوں کو مسلمانوں کی نگاہ میں ذلیل کرنے کیلئے حملہ کرے گا لیکن حالات ایسے پیدا ہو جائیں گے کہ وہ حملہ قانونی مُجرم بن جائے گا اور جب اسے گرفتار کیا جائے گا تو عدالت اُسے جاتے ہی چار ماہ کی قید کی سزا دے دے گی جیسا کہ میں اپنے ایک اشتہار میں تفصیل کے ساتھ بیان کر چکا ہوں۔مگر اس قسم کی باتیں تبھی نظر آتی ہیں جب انسان الہامات کا مطالعہ رکھے۔ورنہ اگر ہم الہامات کا مطالعہ نہ کریں اور آج کوئی پیشگوئی پوری ہو جائے تو ہمیں کس طرح معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود به الصلوة والسلام کی پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور اگر سو سال کے بعد لوگوں کو پتہ لگے اور اُس وقت جماعت اسے پیش کرے تو اُس وقت کے لوگ گالیاں ہی دیں گے کہ یہ عجیب لوگ تھے ان کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پیشگوئی پوری ہوئی مگر انہیں پتہ تک نہ لگا اور اب عرصہ کے بعد انہیں ہوش آیا ہے۔تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان پیشگوئیوں کو اپنے مد نظر رکھیں جس کا طریق یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کو ہمیشہ زیر مطالعہ رکھا جائے تا جب کوئی پیشگوئی پوری ہو تو ہمیں الہامات یا رویا وکشوف یاد آ جائیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے قرآن کریم کا فہم پیدا ہوتا اور اس کے معارف سے واقفیت ہوتی ہے اس لئے دوستوں کو چاہئے کہ ان میں سے جس جس کو توفیق ہو وہ یہ کتاب ضرور خریدے اور اس کا مطالعہ رکھے تا اسے قرآن مجید اور حدیث کی سمجھ بھی آئے اور جماعت کا وہ پروگرام بھی مد نظر رہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے علیہ ال