انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 81

اسلام اور احمدیت کے متعلق عظیم الشان پیشگوئی انوار العلوم جلد ۱۴ پس الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں نہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اذن دیا گیا ہے کہ ساری دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچاؤ بلکہ اس میں یہ پیشگوئی بھی کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کو کامیاب کرے گا اور اسلام کو ساری دنیا میں پھیلائے گا۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظلل اور خلیفہ ہیں اس لئے آپ کو بھی ابتدائی ایام میں اسی قسم کی وحی کی گئی کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا یعنی دنیا کا کوئی گوشہ کوئی ملک اور کوئی طرف ایسی نہ رہے گی جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام نہ پہنچے گا اور جہاں کے لوگ آپ کو قبول نہ کریں گے۔میں نے اسی پیشگوئی کے یاد آنے پر اس وقت الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ چار دفعہ کہا تا کہ یہ دنیا کی چاروں اطراف کے لوگوں کے متعلق ہو۔تمام اقوام سے کوئی بات منوانا یا کسی ایک قوم سے کوئی بات منوانا بہت بڑا فرق رکھتا ہے۔بعض دفعہ دشمن اپنی توجہ کسی خاص مرکز پر مرکوز کر دیتا ہے اور جب کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو کہہ دیتا ہے میں نے تو ادھر توجہ ہی نہ کی تھی ، میری توجہ تو فلاں طرف تھی اور اسے میں نے محفوظ رکھا۔اس طرح وہ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم چاروں طرف کے لوگوں کی توجہ اس کی طرف پھیر دیں گے۔یعنی ہر طرف کے لوگوں کو کھینچ کر اس کے پاس لائیں گے۔اب جو میں یہاں کھڑا ہوا اور ان احباب کو دیکھا جو اس وقت یہاں جمع ہیں تو میں نے اپنی ذہنی نظر سے محسوس کیا کہ کوئی مشرق سے آیا ہے اور کوئی مغرب سے کوئی شمال سے آیا ہے اور کوئی جنوب سے پھر کوئی کسی قوم میں سے ہے کوئی کسی مذہب سے۔اس وقت جو احباب یہاں موجود ہیں بعض ان میں ایسے ہیں جو سکھوں میں سے آئے ، بعض ایسے ہیں جو ہندؤوں میں سے آئے ہیں، بعض ایسے ہیں جو عیسائیوں میں سے آئے ، بعض ایسے ہیں جو مسلمانوں میں سے آئے۔پھر ان میں سے بعض سنیوں میں سے آئے ، بعض وہابیوں میں سے آئے ، بعض چکڑالویوں میں سے آئے ، بعض شیعوں میں سے آئے۔غرض کوئی مذہب کوئی قوم اور کوئی فرقہ ایسا نہیں جو ہمارے مقابل پر آیا ہو اور اس میں سے ہم نے کچھ نہ کچھ آدمی نہ لئے ہوں۔آئندہ کے متعلق کہتے ہیں ”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات اسی سے قیاس کیا جا سکتا ہے۔غرض جس قوم کا بھی ہمارے ساتھ مقابلہ ہوا، اسے کوئی نہ کوئی شکار احمدیت کیلئے قربان کرنا پڑا۔آج حنفی نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی کثرت کی وجہ