انوارالعلوم (جلد 14) — Page 80
انوار العلوم جلد ۱۴ اسلام اور احمدیت کے متعلق عظیم الشان پیشگوئی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اسلام اور احمدیت کے متعلق عظیم الشان پیشگوئی افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۲۵۔دسمبر ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔سورۃ فاتحہ کی ابتداء اللہ تعالیٰ نے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ ے سے فرمائی ہے یعنی اُس آیت کے بعد جو بطور کنجی ہر سورۃ کے پہلے خدا تعالیٰ نے نازل کی اور جو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ہے تفصیلی آیات جو اس کے بعد شروع ہوتی ہیں ان میں سے پہلے آیت یہی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی بات بیان فرمائی ہے جو ہماری جماعت کیلئے اپنے اندر بہت بڑا سبق بھی رکھتی ہے اور ہمارے ایمانوں کی تازگی کا بھی موجب ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمان کے منہ سے کہلاتا ہے کہ میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔اس میں پیشگوئی کی گئی تھی اور کی گئی ہے اور یہ ہمیشہ جاری رہے گی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آواز قرآن کریم کے ذریعہ اُٹھائی گئی ہے، اس سے کوئی قوم کوئی جماعت اور کوئی ملک محروم نہیں رہے گا۔رب العلمین کے معنی ہیں خدا تعالیٰ تمام عالموں کا رب ہے اور جہاں عالموں سے مراد تمام مخلوق ہے، وہاں تمام انسانی قو میں بھی اس میں شامل ہیں۔دنیا میں سوائے اسلام کے اور کوئی ایسا مذ ہب نہیں جس کی طرف سے یہ پیشگوئی کی گئی ہو کہ تمام اقوام عالم اسے قبول کر لیں گی۔بے شک عیسائیوں نے ساری دنیا میں تبلیغ کی مگر ان کے مذہب میں یہ پیشگوئی نہیں کہ تمام قو میں عیسائیت میں جمع ہو جائیں گی۔انہوں نے خود بخود اجتہاد کر کے اور اپنے نبی کی تعلیم کے خلاف چل کر بنی اسرائیل کے سوا دوسری قوموں میں تبلیغ کی لیکن اسلام نہ صرف یہ کہتا ہے کہ یہ تمام بنی آدم اور ساری دنیا کی طرف خدا کا پیغام ہے بلکہ پیش گوئی کرتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ دنیا کے ہر گوشہ اور ہر ملک میں اس کو قبول کرنے والے پیدا ہوں گے۔