انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 67

انوار العلوم جلد ۱۴ زنده خدا کا زنده نشان ے ہر بلا کیں قوم را حق داده اند زیر آں گنج کرم بنهاده اند ہرا بتلا احمدیت کیلئے رحمت بن گیا اور ہر حملہ اس کی ترقی کیلئے کھاد بن گیا اور کوئی دن نہیں چڑھتا کہ جس میں احمدیت کا قدم پہلے کی نسبت آگے نہیں پڑتا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔احرار اور حکومت کا متفقہ حملہ انہی حملوں میں سے جو نصف صدی سے احمدیت پر ہوتے چلے آرہے ہیں، ایک حملہ اکتو بر ۱۹۳۴ء میں ہوا اور اس دفعہ ایک جماعت جتھے اور طاقت کے ساتھ خود احمدیت کے مرکز پر حملہ آور ہوئی اور اخلاق و شرافت کے معیار کو کھلا کر ایسے ایسے گندے حملے کئے گئے کہ شرافت نے سر پیٹ لیا اور انسانیت نے شرم سے اپنا منہ دامن میں چھپا لیا۔مگر دشمن خوش تھا کہ اس نے بہت بڑا کام کیا ہے اور نازاں تھا کہ ہنسی تمسخر اور گالیوں کے ذریعہ سے اس نے احمدیت کی عزت کو خاک میں ملا دیا ہے۔اس وقت سے پہلے دشمنانِ احمدیت سلسلہ احمدیہ کے خلاف یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ یہ لوگ سیاست سے الگ رہتے ہیں اور بُزدل اور کمزور ہیں، اسی دن حملہ کی شکل بدل دی گئی اور یہ کہا گیا کہ احمدی اصل میں حکومت کے مخالف ہیں اور حکومت کے مقابل پر ایک اور حکومت بنانا چاہتے ہیں اور اس مضمون پر اس قدر زور دیا گیا کہ خود حکومت جس کی آنکھوں کے سامنے احمدیت کی تاریخ موجود تھی ، دھوکا میں آگئی اور مولوی عطاء اللہ صاحب جو اس احرار کا نفرنس کے صدر تھے، ان پر حکومت نے جو مقدمہ کیا وہ ہر سمجھدار انسان کی نظر میں مولوی عطاء اللہ صاحب کے خلاف مقدمہ نہ تھا بلکہ احمدیت کے خلاف مقدمہ تھا۔چنانچہ اس مقدمہ کے دوران میں صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ منگوائے گئے۔مجھے کہ امام جماعت احمدیہ کا ہوں، عدالت میں گواہی کیلئے بلوا کر تین دن طویل جرح کا نشانہ بنایا گیا۔سلسلہ کے دوسرے کارکنوں کو بلا کر لمبی لمبی جرحیں کی گئیں۔اور ہر منصف مزاج نے تسلیم کیا کہ یہ مقدمہ حکومت نے مولوی عطاء اللہ صاحب کے خلاف نہیں کیا بلکہ احمدیت کے خلاف کیا ہے۔آخر جب مقصد حاصل ہو گیا اور بزعم خود احمدیت کے راز ہائے سربستہ کو حکومت اور احرار باہم مل کر افشاء کر چکے تو مقدمہ کا فیصلہ ہوا۔عدالت ماتحت نے مولوی صاحب کو چھ ماہ کی سزا دی لیکن فیصلہ کے ساتھ ہی ہلا تو قف ضمانت منظور کر لی گئی۔پھر جب عدالت اپیل کے سامنے مقدمہ پیش ہوا تو اس نے فیصلہ میں مولوی عطاء اللہ صاحب کو چھوڑ کر احمدیت پر فرد جرم لگایا اور مولوی صاحب کو اندازاً