انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 66

انوار العلوم جلد ۱۴ زنده خدا کا زنده نشان اَعُوذُ باللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ زنده خدا کا زنده نشان جماعت احمدیہ کے خلاف احرار کے فتنہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی ( رقم فرموده ۱۲۔دسمبر ۱۹۳۵ء) يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا ہرا بتلاء جماعت احمدیہ کیلئے رحمت ہے نوری پرندون نُوْرَكَ يُرِيدُونَ إِنْ يَّتَخَطَّفُوْا عِرْضَكَ إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ۔لے لوگ چاہتے ہیں کہ تیرے نور کو بجھا دیں ، لوگ چاہتے ہیں کہ تیرے ساز و سامان کو اُچک کر لے جائیں مگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے کیونکہ میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔یہ وہ کلام ہے جو آج سے تینتیس سال پہلے ۱۹۔اکتو بر ۱۹۰۲ ء کو بانی سلسلہ احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا۔وہ دن جاتا ہے اور آج کا دن آتا ہے متواتر دنیا کے لوگوں نے خدا تعالیٰ کے نور کو بجھانے کی کوشش کی اور اس متاع روحانی کو لوٹنے کی کوشش کی جو بانی سلسلہ احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا مگر ان تمام بدخواہوں اور دشمنوں کے حصہ میں صرف نا کامی اور نامرادی آئی اور ہر شورش جو دشمن نے اُٹھائی اسی کے پیچھے سے رحمت الہی کے بادل جھومتے ہوئے آ موجود ہوئے اور ہر فتنہ جو معاندین نے برپا کیا اسی کے نیچے سے اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا خزانہ نمودار ہوا۔غرض مثنوی رومی کے قول کے مطابق کہ: