انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page x

انوار العلوم جلد ۱۴ تعارف کنند کتب کرنا جائز ہو جاتا ہے۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نجران کے عیسائیوں کو تبلیغ کی اور واضح دلائل سے اسلام کی حقانیت ظاہر فرما دی لیکن وہ بدستور ا نکار پر مصر رہے تب آپ نے انہیں دعوتِ مباہلہ دی۔احمدیت کی مخالفت میں مجلس احرار کا طوفانِ بدتمیزی جب اپنے انتہاء کو پہنچا اور نہایت جھوٹے اور بے بنیادالزامات جماعت پر لگائے جانے لگے تو حضرت مصلح موعود نے ان جھوٹے من گھڑت الزامات پر مجلس احرار کو دعوت مباہلہ دی۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ۳۰۔اکتوبر ۱۹۳۵ ء کو مضمون تحریر فرمایا۔آپ فرماتے ہیں:۔” جب احرار کی اس قسم کی بہتان تراشی حد سے بڑھ گئی اور با وجود بار با رتوجہ دلانے کے وہ باز نہ آئے تو میں نے احرار کو چیلنج دیا کہ وہ احرار کے پانچ سو ایسے نمائندے جنہوں نے بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب کا ایک حد تک مطالعہ کیا ہو پیش کریں جو جماعت احمدیہ کے پانچ سو نمائندوں سے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا ایک حد تک مطالعہ کیا ہوگا کہ وہ ان کی تعلیم کے مطابق یقین سے قسم کھا سکیں مباہلہ کر لیں تا کہ حق اور باطل میں امتیاز ہو سکے۔مگر جیسا کہ ہمیشہ سے حق کے مخالفین کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ ایسے موقع پر حیل و حجت اور ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں ،مجلس احرار کی طرف سے اس کا کوئی مثبت جواب نہ دیا گیا اور چند احراریوں نے قادیان آ کر تقاریر کیں کہ ہمیں مباہلہ منظور ہے۔اس پر حضور نے چند معززین جماعت پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جنہوں نے مجلس احرار کے لیڈروں کو تحریری خطوط لکھے کہ وہ بھی اپنے نمائندے مقرر کریں تا کہ ضروری امور طے ہو جائیں مگر احرار مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔اس پر حضور نے پر شوکت الفاظ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ اعلان فرمایا:۔”اے بھائیو! احرار کے مذکورہ بالا جواب کی حقیقت سے آپ کو آگاہ کرنے کیلئے مباہلہ کا انتظار کئے بغیر میں اُس خدائے قہار وجبار، مالک ومختار، مُعِزّ و مُذِلّ، مُحي و مُمِیت کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میرا اور سب جماعت احمدیہ کا بحیثیت جماعت یہ عقیدہ ہے کہ۔۔۔۔