انوارالعلوم (جلد 13) — Page 60
انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاداللہ تعالی کے توکل پر ہونی چاہئے کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا مہربان بھی فرماتا ہے مَنُ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِي وَ مَنْ عَصَى اَمِيُرِى فَقَدْ عَصَانِی یعنی جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے طریق میں سوشل معاملات کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں تھا اور اگر ہم اپنی زندگیوں میں ان امتیازات کو مٹا نہ سکیں سوائے ادب اور محبت کے امتیازات کے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم اس ملوکیت کو قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے مٹانے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔میں سمجھتا ہوں اگر محرروں کے دل میں یہ خیال نہیں آیا تھا کہ وہ ناظروں کو اس میں شامل کرتے تو خود ناظروں کو یہ احساس ہونا چاہئے تھا کہ وہ رشک سے محرروں سے کہتے کہ ہمیں کیوں اس میں شامل نہیں کیا گیا ہمیں بھی حصہ دار بناؤ اور شامل کرو اور اگر محرروں کے دل میں یہ شبہ تھا کہ وہ ناظر ہیں اور ہم محرر ممکن ہے وہ اس میں شریک ہونا پسند نہ کریں تو ناظروں کا فرض تھا کہ وہ خود اس شبہ کو دور کرتے اور اس طرح ایک وقت میں دونوں اعزاز میں حصہ لیتے۔اس کے بعد میں کچھ اس کام کے متعلق کہنا چاہتا ہوں جس کیلئے خان صاحب ولایت گئے تھے۔جس وقت درد صاحب کی انگلستان سے واپسی کا وقت آیا اور میں نے دوستوں سے اس بارہ میں مشورہ لیا کہ ان کی جگہ خاں صاحب کو ولایت بھیجا جائے تو کئی دوستوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوا کہ چونکہ خاں صاحب نے یہ کام اس رنگ میں پہلے نہیں کیا اگر چہ وہ پنجاب میں بعض جماعتوں کے امیر رہے ہیں مگر چونکہ یہ جدید نوعیت کا کام ہے اس لئے ممکن ہے وہ اسے بخوبی سرانجام نہ دے سکیں لیکن اس وقت میرے دل میں جو چیز تھی، وہ یہ تھی کہ جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ظاہری قابلیت کے ساتھ دل میں اخلاص اور خشیت ہوا اور میں سمجھتا تھا اگر ایسا ہوگا تو کوظاہری حالات کیسے ہی ہوں اللہ تعالیٰ اخلاص کو قبول کر کے اس کمی کو پورا کر دے گا۔اس میں بہ نہیں کام کی نوعیت کے لحاظ سے جس قسم کے تجربہ کی ضرورت تھی ، وہ خاں صاحب کو حاصل نہیں تھا اور ظاہری حالات کے لحاظ سے دوستوں کا مشورہ وزنی تھا مگر یہ اسی صورت میں قابل قبول ہوسکتا تھا جب ہم یہ خیال کریں کہ ہمارا سلسلہ بھی دوسری قسم کی تنظیموں میں سے ایک تنظیم ہے لیکن جب کہ یہ صحیح نہیں اور جب کہ ہمارا سلسلہ خدائی سلسلہ ہے اور خدائی تائید ونصرت ہمارے شامل حال ہے تو اس قسم کا خیال بھی صحیح نہیں ہوسکتا تھا۔میں سمجھتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں