انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 43

۴۳ انوار العلوم جلد ۱۳ غیر مسلموں میں تبلیغ کیلئے زریں ہدایات معلوم ہوگا کہ ایک طاقتور ہستی ہے جو ان کے پیچھے کام کر رہی ہے اور دوسرے یہ کہ تم اسے نظر سے اٹھا دو تو ہر چیز میں فنا نظر آئے گی۔ایک طرف کائنات کا ایک ایک ذرہ بتا رہا ہے کہ کوئی طاقت موجود ہے جو اس پر حکومت کر رہی ہے اور جو کبھی ملتی نہیں ، جس کی قوتوں کی کوئی حد بندی نہیں اور دوسری طرف ہر ذرہ یہ بتا رہا ہے کہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔یہ دونوں متوازی سلسلے ہر جگہ دنیا میں نظر آتے ہیں۔ایک طرف ہم آنکھ کو دیکھتے ہیں کہ اس کی حفاظت کیلئے قدرت نے کیا کیا سامان رکھے ہیں۔ابروہی جو چوٹ وغیرہ سے حفاظت کرتے ہیں پلکیں ہیں تا بار یک گردوغبار کو اندر جانے سے روک دیں۔پھر اسے گیلا رکھنے کے لئے قدرت نے ایسی غدود میں رکھی ہیں تا آنکھ خشک نہ ہو۔ایک زمینداران تفاصیل کو نہیں جانتا لیکن جب آنکھ خشک ہوتی ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس میں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔یہ تو عام باتیں ہیں لیکن ڈاکٹروں سے پوچھو تو وہ کیا کیا پر دے اور بار یک باتیں آنکھ کے متعلق بتائیں گے گویا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوت ہی قوت ہے۔دوسری طرف یہ حال ہے کہ ایک شخص جنگل میں جا رہا ہے کوئی سرکنڈ لگا اور آنکھ نکل گئی۔پاکھیل میں چوٹ لگی تو آنکھ بیٹھ گئی ، کوئی چیز پڑگئی تو روشنی جاتی رہی، پھولا بن گیا۔اب غور کرو کہ ایک طرف تو سینکڑوں فلسفی لگے ہیں مگر آنکھ کے معارف ختم نہیں ہوتے۔دوسری طرف انگوٹھا لگا اور آنکھ باہر۔گویا کمزوری اتنی کہ کوئی طاقت اس میں ہے ہی نہیں اور یہی حال ہر ذرہ کا ہے۔ایک طرف طاقت ہی طاقت اور دوسری طرف کمزوری ہی کمزوری۔اور یہ سب باتیں کیا ظاہر کرتی ہیں یہی کہ تم کچھ نہیں خدا سب کچھ ہے۔پس جن کے پاس تبلیغ کے لئے جاؤ ، انہیں یہ آسان باتیں بتا کر ان کے دل میں خشیت پیدا کر و اور بتاؤ کہ انسان خدا کی مدد کے بغیر کچھ نہیں اور پھر انہیں بتاؤ کہ اسلام کے ذریعہ ہی تم خدا کو پاسکتے ہو۔اگر کوئی کہے کہ ہمارے مذہب میں سچائی ہے تو اسے بتاؤ کہ بے شک ہے مگر اسلام میں زیادہ ہے۔بجائے اس کے کہ اسے کہو تیرا مذ ہب جھوٹا ہے، اس کی تائید کر کے اسلام کی فضیلت اس کے ذہن نشین کر و۔اگر جھوٹا کہو گے تو وہ کہہ دے گا کہ سارے ہی ڈھکوسلے ہیں اور اگر کہو کہ سچائی ضرور ہے تو رستہ آسان ہو جائے گا۔قرآن کریم نے یہی طریق اختیار کیا ہے۔عیسائی کہتے ہیں کہ سب نبی چور اور بٹما ر ہیں۔لیکن قرآن بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں نبی بھیجے ہیں جو سب خدا کے پیارے ہیں۔پس چاہئے کہ اس طرح ان کے دل میں خشیت پیدا کرو اور انہیں یہ بھی بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے انبیاء مبعوث کرتا رہا ہے اور ان کے ذریعہ ہی دنیا کو ترقی دیتا رہا ہے اور دنیا کی ترقی ایک ہی دین پر قائم ہونے سے ہوسکتی