انوارالعلوم (جلد 13) — Page 384
384 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات حکومت تحقیقات کرتی اور جس آدمی کو پیش کیا جاتا، اس کے خط کے ساتھ اس چٹھی کا خط ملاتی تو غالباً معلوم ہو جاتا کہ لکھنے والا حکومت کے ہی ایک محکمہ کا آدمی ہے۔حکومت اس بارے میں بآسانی تحقیقات کر سکتی تھی لیکن بجائے اس کے کہ یہ تحقیقات کی جاتی کہ کراچی میں ایسے احمدی ہیں یا نہیں، پولیس کے حکام نے ”زمیندار کے شور وشر پر اس قسم کے انتظامات شروع کر دیئے کہ گویا اس کی شائع کردہ چٹھیاں بالکل درست تھیں اور فی الواقع قتل کا اندیشہ تھا۔پھر ”زمیندار“ میں اسی قتل کرنے کی چٹھی لکھنے والے کی طرف سے اعلان کرا دیا جاتا ہے کہ وہ پہلے احمدی تھا مگر اب احمدیت سے مرتد ہو گیا ہے۔اس کے متعلق ہم چیلنج دیتے ہیں کہ ثابت کریں وہ شخص کبھی احمدی ہوا۔احمدی ہونے کے لئے بیعت کی جاتی ہے اور بیعت کرنے والوں کے نام شائع کئے جاتے ہیں۔اس کا نام کب شائع ہوا۔پھر احمدی کے لئے شرط ہے کہ وہ با قاعدہ چندہ ادا کرے اس نے کب چندہ دیا۔کراچی میں باقاعدہ احمدی جماعت ہے اور تمام احمد یوں کے رجسٹروں میں نام درج ہیں، چندہ دینے والوں کو رسید میں دی جاتی ہیں، اس شخص سے پوچھا جا سکتا ہے کہ رسید میں دکھاؤ بیعت کرنے کے جواب میں جو خط تمہیں آیا وہ دکھاؤ۔اگر اس طرح اسے احمدی ثابت نہیں کیا جا سکتا تو صاف بات ہے کہ بعض شریروں اور فتنہ پردازوں نے جعلی خطوط بنا کر شائع کرائے اور اس طرح عام لوگوں کو احمدیوں کے خلاف اشتعال دلایا۔مگر عجیب بات ہے کہ اشتعال تو احمدیوں کے خلاف دلایا گیا اور مصنوعی خطوط کے ذریعہ احمدیوں کی جان و مال کو خطرہ میں ڈالا گیا لیکن حکومت ان کی حفاظت کا انتظام کرتی ہے جنہوں نے اشتعال دلایا اور اس طرح جماعت احمدیہ کو اور زیادہ خطرات میں ڈال دیتی ہے۔یہ سب کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، ہمارا خدا بھی دیکھ رہا ہے اور وہ افسر بھی دیکھ رہے ہیں جنہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اُن کے دل شرافت سے خالی نہیں ہیں۔حکومت کسی ایک آدمی کا نام نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کے مجموعہ کا نام ہے جو حکومت کر رہے ہیں۔ان میں شریف بھی ہیں اور شریر بھی۔آج اگر شریف ڈر کر نہ بولیں یا نا واقفی کی وجہ سے خاموش ہوں اور دخل نہ دیں تو اور بات ہے مگر ممکن ہے کہ کل انہیں علم ہو یا کمزور جرآت کریں اور فتنہ پردازوں کی حرکات بند کرنے کی کوشش کر یں لیکن اگر نہ کریں تو خدا تعالیٰ خود ہماری حفاظت کرے گا۔آسمان سے تیر آئیں گے اور ہمارے دشمنوں کے سینوں کو چھیدیں گے۔طاعون سے جو ہزار ہا لوگ مرے کیا وہ ہم نے مارے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ طاعون طعن سے نکلا ہے اور طعن