انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 383

383 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات کیونکہ ہم سچے مومن ہیں اور مومن خصی ہو جاتا ہے۔ہمیں جوش آتا ہے اور آئے گا مگر وہ دل میں ہی رہے گا، ہمیں غیرت آئے گی مگر وہ ظاہر نہ ہو گی، ہمارے قلوب ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے مگر زبانیں خاموش رہیں گی، ہاں ایک اور ہستی ہے جو خاموش نہ رہے گی وہ بدلہ لے گی اور ضرور لے گئی حکومتوں سے بھی اور افراد سے بھی کوئی بڑے سے بڑا افسر کوئی بڑے سے بڑا لیڈر کوئی بڑے سے بڑا جتھا اور کوئی بڑی سے بڑی حکومت اُس کی گرفت سے بچ نہ سکے گی۔حکومت انگریزی بہت بڑی اور بہت طاقت ور حکومت ہے مگر جو اس کے غدار اور فرض ناشناس حاکم ہیں، انہیں وہ خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتی۔وہ ایسے حکام کو بم کے گولوں سے بچانے کا انتظام کر سکتی ہے؟ اور وہ احمدیوں نے چلانے نہیں مگر ہیضہ قولنج اور طاعون کے حملہ سے وہ کسی کو نہیں بچا سکتی اور نہ کوئی اور طاقت ہے جو خدا کی گرفت سے بچا سکے۔اگر یہی حالت جاری رہی اور کسی دن بددعا نکل گئی تو حکومت دیکھ لے گی کہ اپنے تمام سامانوں اور اپنی تمام حفاظتوں کے باوجود ان کو بچانہ سکے گی۔ہمارا خدا ظلم اور نا انصافی کرنے والوں کو دیکھ رہا ہے وہ ہمارے زخمی قلوب اور ان میں جو جذبات ہیں، ان کو دیکھتا ہے، پھر ہمارے صبر کو دیکھتا ہے، آخر وہ ایک دن اپنا فیصلہ نافد کرے گا اور پھر دنیا دیکھ لے گی کہ کیا کچھ رونما ہوتا ہے۔علاوہ اس گندے اور اشتعال انگیز لٹریچر کے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف شائع کیا جاتا ہے، مرکز سلسلہ اور جماعت احمدیہ کے خلاف بھی لوگوں کو طرح طرح سے اُکسایا اور ورغلایا جاتا ہے۔مثلاً پچھلے دنوں ”زمیندار اخبار نے شائع کیا کہ احمدیوں کی طرف سے اسے اس قسم کی چٹھیاں ملی ہیں جن میں مولوی ظفر علی صاحب کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ہر ایک عقل مند اس قسم کی چٹھی لکھنے والے کو یا تو نیم پاگل سمجھے گا یا یہ خیال کرے گا کہ چٹھی مصنوعی ہوگی۔مگر اس موقع پر ہوتا کیا ہے؟ یہ کہ مخالفین کے اس طبقہ میں شور مچ جاتا ہے کہ اب قتل ہونے لگیں گے اور احمدیوں کو قتل کرنے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ادھر گورنمنٹ کو فکر پڑ گئی پولیس نے انتظامات کرنے شروع کر دیئے سی۔آئی۔ڈی جمع ہونے لگ گئی مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ جب اٹھی پر لکھنے والے کا نام اور پتہ درج ہے تو کیوں اسے پکڑتے نہیں۔وہ دکھی جرمن یا جاپان سے تو نہیں آئی تھی کہ لکھنے والا پکڑا نہ جا سکتا تھا۔وہ کراچی کی چھٹھی تھی کیا حکومت کراچی سے اس کا پتہ نہ لگا سکتی تھی؟ وہاں ایک احمدی مبارک احمد رہتا ہے مگر پیٹھی پر مبارک مبارز لکھا تھا اور دوسری پیٹھی پر سید احمد نام درج تھا۔ہمیں بہت حد تک یقین ہے کہ یہ پٹھیاں کس نے لکھیں۔اگر