انوارالعلوم (جلد 13) — Page 331
331 انوار العلوم جلد ۱۳ سردار کھڑک سنگھ اور ان کے ہمراہیوں کو دعوت حق اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ سردار کھڑک سنگھ صاحب اور ان کے ہمراہیوں کو دعوت حق سردار کھڑک سنگھ صاحب ! مجھے اس علاقہ کا رئیس ہونے اور جماعت احمدیہ کا امام ہونے کے لحاظ سے خوشی ہوئی تھی کہ سکھ صاحبان میں بیداری پیدا کرنے کیلئے آپ کا سا تجربہ کار لیڈر قادیان آیا ہے اور مجھے امید تھی کہ آپ لوگوں کو اچھی باتوں کی تعلیم دیں گے اور حق اور راستی کی اہمیت ان پر ظاہر کریں گے لیکن میرے تعجب کی کوئی حد نہیں رہی جبکہ مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنے لیکچر میں بیان کیا ہے کہ قادیان میں احمدی ،سکھوں پر سخت ظلم کر رہے ہیں اور یہ کہ احمدی اگر باز نہ آئے تو قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی اور میں نے سنا ہے کہ آپ کے ایک ساتھی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ قادیان کی اینٹیں سمندر میں پھینک دی جائیں گی۔مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ نے اپنے لیکچر میں بیان فرمایا ہے کہ احمدیوں کے یہ ظلم اس وجہ سے ہیں کہ گورنمنٹ انہیں شہ دیتی ہے اور آپ نے اس کا علاج یہ تجویز کیا ہے کہ انگریزوں کو سیدھا کر دیا جائے تو احمدی آپ سیدھے ہو جائیں گے۔مجھے یہ بھی رپورٹ ملی کہ ایک احراری نے بھی آپ کے جلسہ میں تقریر کی ہے اور کہا ہے کہ سکھ بڑے بے غیرت ہیں کہ احمد می ان کے گرو کو مسلمان کہتے ہیں اور پھر بھی ان کو غیرت نہیں آتی۔سب سے پہلے تو میں آپ کی اور آپ کے ہمراہیوں کی توجہ اسی احراری کی تقریر کی طرف پھر ا تا ہوں کہ کیا یہ شخص دیانت دار تھا ؟ اگر اس شخص کے نزدیک حضرت باوا صاحب کو ایک مسلمان ولی اللہ کہنا با وا صاحب کی ہتک کرنا ہے تو اس بے غیرت سے آپ نے دریافت کرنا تھا کہ وہ اب تک اس ہتک والے چولے کو کیوں پہنے ہوئے ہے اور کیوں سکھ ہو کر اس گندگی سے