انوارالعلوم (جلد 13) — Page 260
۲۶۰ انوار العلوم جلد ۱۳ احمدیت کے اصول سپر چولزم کے ماہر تھے مگر سب کو قرآن کے ذریعہ خاموش کر دیا۔کیونکہ قرآن سب علوم کا جامع ہے یہ ایک مخفی خزانہ ہے، کسی مذہب وملت یا کسی مذہب کے جاننے والے کو میرے سامنے لے آؤ یا مجھے جہاں کہو میں جاؤں گا اور جو شخص بھی سامنے آئے گا قرآن کی فضیلت اس پر اور اس کے علوم پر ثابت کر دوں گا اور خدا کے فضل سے اسے خاموش ہونا پڑے گا حالانکہ میں مروجہ علوم پڑھا ہوا نہیں ہوں۔وہ بھی کیا علوم ہیں جن کے پڑھنے کے بعد اور کتابیں پڑھنے کی ضرورت باقی رہے۔مگر قرآن وہ کتاب ہے جسے پڑھنے کے بعد اور کسی کتاب کی ضرورت نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے حضرت خلیفہ اول مولوی نورالدین صاحب پر۔آپ نے مجھے قرآن کریم اور بخاری پڑھا دی تو فرمایا۔میں نے سارے علوم تمہیں پڑھا دیئے ہیں۔گو اپنے طور پر میں نے بعد میں مطالعہ جاری رکھا مگر بخاری بھی قرآن کی تابع ہے اور محض علم کی تازگی کیلئے اسے پڑھنے کی ضرورت ہے وگر نہ قرآن کے بعد اس کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔قرآن کے اندر ہی سب چیزیں موجود ہیں۔مگر مسلمانوں کو اس طرف توجہ نہ تھی۔اور قرآن سے ان کا تعلق باقی نہ رہا تھا۔حضرت مرزا صاحب کے ایک دوست تھے جنہیں مولوی محمد حسین صاحب سے بھی عقیدت تھی۔جب آپ نے دعوی کیا اور مولوی محمد حسین صاحب مخالفت کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تو انہوں نے ان کو لکھا کہ آپ گھبرایئے نہیں مجھے یقین ہے کہ مرزا صاحب کو قرآن پر ایمان ہے۔میں انہیں مل کر سمجھا لوں گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ مان جائیں گے۔چنانچہ وہ آپ سے ملنے آئے اور کہا آپ کا کیا یہ دعویٰ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے فرمایا۔ہاں قرآن میں ایسا ہی لکھا ہے۔وہ کہنے لگے کہ اگر میں قرآن شریف کی دس آیات ایسی پیش کر دوں جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت ہو تو کیا آپ مان لیں گے۔آپ نے فرمایا۔دس آیات کیا اگر ایک آیت کا ٹکڑا بھی پیش کر دیں تو میں مان لوں گا۔کہنے لگے۔بس مجھے آپ سے یہی امید تھی اور یقین تھا کہ آپ قرآن کے خلاف نہیں جائیں گے۔مولوی محمد حسین صاحب ان دنوں لاہور میں تھے وہ ان کے پاس پہنچے اور کہا کہ بس اب فیصلہ ہو گیا ہے، مرزا صاحب فوراً مان جائیں گے۔آپ صرف اتنا کریں کہ دس آیات ایسی لکھ دیں جن سے حیات مسیح ثابت ہو۔یہ سن کر مولوی صاحب جھنجھلا کر بولے کہ بیوقوفوں کو کس نے کہا ہے کہ علمی مسائل کے اندر دخل دیں۔تین ماہ کی بحث کے بعد میں مرزا صاحب کو کھینچ کر حدیث کی طرف لا یا تھا، یہ پھر قرآن کی طرف لے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اچھا پھر جدھر قرآن ہے ادھر ہی میں ہوں۔تو مسلمانوں