انوارالعلوم (جلد 13) — Page 240
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۴۰ احمدیت کے اصول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر دنیا میں الہی قانون کو رائج کیا اور اس طرح بتا دیا کہ خدا عزیز ہے۔چوتھی چیز الحکیم ہے۔اس کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں۔اس کے مقابل رسول کا کام یہ بتایا كه يُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ۔ہر بات جو وہ کہتا ہے اس کی حکمت بھی ساتھ ہی بیان کر دیتا ہے۔دنیوی بادشاہ ایسا نہیں کرتے وہ کہہ دیتے ہیں کہ بس ہمارا حکم ہے ایسا ہو وجہ کوئی نہیں بیان کرتے لیکن اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا حالانکہ دنیا کے بادشاہوں کی اس کے مقابل میں کوئی ہستی ہی نہیں لیکن وہ کہتے ہیں ہمارے سامنے کون بول سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ اس میں تمہارا فائدہ ہے۔وہ انسان کی عقل پر حکومت کرتا ہے زبر دستی نہیں کرتا اور خدا کے حکیم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ محمد ہر شعبہ زندگی کے متعلق تعلیم دیتا ہے مگر اس کا مقصد اس کی غرض، خوبیاں اور فوائد ساتھ بیان کرتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفات کے مقابل چار کام بیان فرمائے۔مگر یہ کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی آکر بیان نہیں فرمائے بلکہ قرآن مجید اور دیگر کتب سماویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام پہلے سے چلے آتے ہیں۔مکہ کی تجدید کے موقع پر ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَتْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ کے یعنی اے میرے رب میں نے اپنی اولاد یہاں لا کر بسائی ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ جس وقت اس قوم میں جہالت پیدا ہو جائے اور یہ نور کے محتاج ہوں تو ان میں سے ہی ان کے لئے ایک رسول بھیجیو جوان کو تیری آیات اور نشانات سنائے، تیری شریعت سکھائے، احکام شریعت کی حکمت بتائے اور انہیں پاک کرے۔گویا یہی چار باتیں ہیں جو مانگی گئی تھیں۔جو ان چار صفات یعنی ملکیت قدوسیت عزیزیت اور حکیمیت کا اظہار ہے اور یہ چار کام تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ کر گئے۔پہلا کام يَتْلُوا عَلَيْهِم الله ہے۔اس کے کیا معنی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ صفت ملکیت کے اظہار کیلئے ہے کوئی بادشاہ ہونا چاہئے اور اس میں کہ بادشاہ ہے بہت بڑا فرق ہے۔اگر کسی ملک کا کوئی باقاعدہ نظام نہ ہو آئین نہ ہو تنازعات کے فیصلہ کیلئے عدالتیں نہ ہوں، فوج نہ ہو' پولیس نہ ہو اور ایک شخص دلائل دیتا جائے کہ بادشاہ ضرور ہونا چاہئے تو سننے والا یہی کہے گا کہ جب کوئی نظر تو آتا نہیں، نہ ملک کی بہبودی اور بہتری کیلئے کوئی کوشش ہو رہی ہے نہ بدمعاشوں کیلئے پولیس یا فوج ہے، تو صرف چاہئے سے اس کے وجود کو کس طرح تسلیم کر لیا جائے۔عقلی دلائل سکھانے کیلئے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی کیونکہ یہ تو ہر شخص جان