انوارالعلوم (جلد 13) — Page 237
۲۳۷ انوار العلوم جلد ۱۳ احمدیت کے اصول بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ احمدیت کے اصول فرموده ۲۵ جنوری ۱۹۳۴ء بمقام قصور ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ - هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ اللهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي صَلِّلٍ مُّبِيْنٍ وَّاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔آج کا مضمون احمدیت کے اصول کے متعلق ہے۔سلسلہ سلسلہ احمدیہ کی بنیاد احمدیہ کوئی نیا ذہب یا کوئی نیا طریقہ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ اس سلسلہ کے بانی نے لکھا ہے۔اس سلسلہ کی غرض احیائے اسلام اشاعتِ اسلام، قیام اسلام اور تائید اسلام ہے اور اس غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی کا یہ امید رکھنا کہ سلسلہ احمدیہ کوئی ایسی بات پیش کرے جو اس زمانہ سے پہلے دنیا میں موجود نہ تھی ایک غلط امید اور آرزو ہوگی۔جس سلسلہ کی بنیاد ہی اس عقیدہ پر ہے کہ اسلام کو اس کی صحیح صورت میں اور اسی صورت میں کہ جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پیش کیا تھا، جس صورت میں کہ قرآن کریم نے اسے بتایا ہے دنیا کے سامنے پیش کرے اس کے دعوی کی صداقت اس امر پر مبنی نہیں ہو سکتی کہ وہ کونسی سچائیاں پیش کرتا ہے بلکہ اس امر میں ہے کہ وہ ایک شوشہ میں بھی حقیقی اسلام سے انحراف نہیں کرتا۔جب ایک مصور زید یا بکر کی تصویر کھینچتا ہے تو اس کا کمال اس میں نہیں کہ زید کے ناک کی بجائے اور لنگ کا ناک بنا دے خواہ وہ اصل سے خوبصورت ہی کیوں نہ ہو یا اصل سے مختلف ما تھا بنا دے۔فرض کروز ید کا ما تھا اچھا نہیں