انوارالعلوم (جلد 13) — Page 195
انوارالعلوم جلد ۱۳ ۱۹۵ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۳ء کینہ و کپٹ ہو تو اُس کو دور کر دے۔پس آؤ ہم اس نسخہ کو آزمائیں۔یعنی خدا تعالیٰ سے دعا کریں اور اسی سے ہر قسم کی مدد چاہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کے قُرب کے حصول کے دن ہیں۔اس موقع پر میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ آجکل رمضان کے دن ہیں اِس وجہ سے یہاں کے دوست دن رات کام کر رہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی رات کے دو بجے اُٹھتے ہیں کیونکہ مہمان روزے بھی رکھتے ہیں اور ان کو سحری کے وقت کھانا کھلانا ہوتا ہے باہر سے آنے والے دوست جہاں کوئی کوتاہی دیکھیں درگزر کریں اور اگر قابل اصلاح سمجھیں تو لکھ کر اور اوپر یہ الفاظ درج کر کے کہ شکایت متعلق انتظام جلسہ میرے دفتر میں جس وقت بھی چاہیں دے دیں وہ مجھے پہنچ جائے گی اور اس کے متعلق ہر ممکن اصلاح کی کوشش کی جائے گی۔میں نے پہلے کسی جلسہ کے موقع پر جلسہ میں کام کرنے والوں کی بریت نہیں کی لیکن اب کے کرتا ہوں کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ سردی کی شدت اور کام کی کثرت کی وجہ سے کوئی جان نہ جاتی رہے۔جس قدر کام کا بوجھ اِن دنوں پڑ رہا ہے وہ انسانی طاقت کے لحاظ سے نا قابل برداشت ہے مگر خدا تعالیٰ ہی ہمت دیتا ہے اور کام کرنے والے بھی سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی خدمت کرتا ہوا فوت ہو گیا تو اُسے شہادت کا درجہ مل گیا اور جو زندہ رہے تو ثواب حاصل ہو گیا اور میں کچھ نہیں کہتا صرف یہی کہتا ہوں کہ سب دوست خلوص اور دردِ دل سے میرے ساتھ مل کر دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمارے دلوں کی صفائی کرے اور ہمیں دوسروں کے دلوں کی صفائی کرنے کی توفیق عطا کرے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم اس کام کے اہل نہیں ہیں۔جب خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد یہ کام کیا ہے تو ہم میں کوئی اہلیت ہو گی تبھی سپرد کیا ہے مگر ہمیں وہ اہلیت نہیں کہ کن الفاظ میں ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اس اہلیت کو نمایاں کر دے اور ہماری کوششوں کو بار آور کرئے دکھ اور تکلیف کے دن دور ہو جائیں، دنیا کی موجودہ حالت بدل جائے اور اس کے بندے حقیقت میں اس کے بندے ہو جائیں۔(اس کے بعد حضور نے تمام مجمع سمیت دعا کروائی۔) ا تذکرہ صفحہ ۵۰۔ایڈیشن چہارم ے آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۶ (الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۳۳ء)