انوارالعلوم (جلد 13) — Page 194
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۹۴ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۳ء م مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ہر مذہب وملت کے لوگوں کو اگر گالیاں دینے کی سوجھتی ہے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک کو اس کے لئے چن لیتے ہیں۔اس کے بعد دوسرا بدترین وجود ( نَعُوذُ بِاللهِ ) وہ ہے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کو قائم کیا۔کوئی گالی اور کوئی بُرا کلمہ نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف استعمال نہ کیا جا تا ہو اور اس سے ہمارے سینوں کو چھلنی اور ہمارے قلوب کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کیا جاتا ہو۔اس کے مقابلہ میں ہمارے پاس کیا ہے جس سے دنیا کے دلوں کو صاف کر کے اور لوگوں کی آنکھوں کو منور کر کے اس قابل بنا سکیں کہ وہ صداقت کو قبول کر لیں۔ہم تو ان لوگوں کے لئے بددعا بھی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا فرض قراردیا گیا ہے کہ ہم ان کی اصلاح کی کوشش کریں اس وجہ سے ہماری حالت ” گوئم مشکل وگر نہ گوئم مشکل کی مصداق ہے یہ دنیا نہ تو ہمارے لئے رہنے کی جگہ ہے اور نہ چھوڑنے کی۔پس آؤ خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں اور اُس سے مدد طلب کریں۔وعظ بھی ہوتے رہیں گے اور لیکچر بھی ہو جائیں گے مگر آؤ سب سے پہلے خدا تعالیٰ کے حضور جھکیں اور کہیں خدایا! یہ ہمارے لئے نہایت ہی بے کسی اور بے بسی کا زمانہ ہے۔جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق اس کے کرنے کی ہم کوشش کرتے ہیں مگر یہ ہماری ہمت اور طاقت کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ہم تو اپنی جانوں کو بھی سہارا نہیں دے سکتے گجا دوسروں کو سہارا دے سکیں۔پس اے ازلی ابدی خدا ! آسمانوں سے اتر اور ہمارے بازوؤں میں طاقت عطا فرما اور ہمیں سہارا دے۔اے رحمن ! جس نے بیان اُتارا ہمارے قلوب کو طاقت دے۔اے قدوس خدا! ہمیں پاکیزگی کی چادر پہنا، ہماری کمزوریوں کو دور کر اور ہمارے نقائص کو مٹادے تا کہ ہم کسی کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ ہوں۔اے بادشاہ! جہاں دنیا اپنی خوبصورتی سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ہمیں بھی کھینچتی رہتی ہے اپنی خوبصورتی کو ظاہر کر دے اور اپنا ایسا جلوہ دکھا کہ لوگوں کے قلوب اس طرف مائل ہو جائیں۔اے خدا! ہر دل اور ہر قلب میں تیری محبت ہو ہم تیرے نام کو روشن کرنے والے ہوں اور ہمارے وجود بھی روشن ہوں۔اے ہمارے رب ! وہ لوگ جو تیرے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتے اور تیرے پیارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بُرا بھلا کہتے ہیں اور ہمارا دل دُکھاتے ہیں اُن کے قلوب میں بھی ایسا تغیر پیدا کر دے کہ ہم انہی کے منہ سے درود و صلوۃ سنیں۔اے خدا! دشمنوں کو دوست بنادینا تیرا ہی کام ہے تو آ اور ہمارے دشمنوں کو ہمارا دوست بنا دے اور اگر ہمارے دل میں کسی کے متعلق