انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 15

انوار العلوم جلد ۳ ۱۵ اللہ تعالٰی کے راستہ میں تکالیف سے نہیں۔یہ نہیں کہ تمہارے دل میں خیال آرہا ہو کہ چونکہ قرآن مجید کہتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ سے نہ بھا گو اس لئے نہیں بھاگتے بلکہ تمہارا درد اور تمہاری اندرونی محبت تمہیں کہے کہ تم اُس وقت لوگوں کی ہمدردی کیلئے کھڑے رہو اور اُنہیں سمجھاؤ اگر ایسا درد نہ ہوگا تب بھی تمہارے سامنے دلیل ہو گی حالانکہ اُس وقت دلیل غائب ہونی چاہئے اور گو قر آن کریم کی تعلیم کے ماتحت ہی اُس وقت کھڑے رہو پھر بھی اُس وقت یہ دلیل تمہیں یاد نہ ہو تمہیں صرف یہی خیال ہو کہ ہم نے ان لوگوں کے سامنے ہدایت کا پیغام پیش کرنا ہے اگر وہ نہیں سنتے تو بھی ہم نے انہیں سنانا ہے۔اگر ہم سوچیں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ حقیقی تو حید یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں انسان صرف اللہ تعالیٰ کو مد نظر رکھے۔تمہیں یہ خیال بھی نہیں کرنا چاہئے کہ چونکہ قرآن کریم کہتا ہے اس لئے ہم ایسا کرتے اور ایسا نہیں کرتے بلکہ جو تمہارے اندر خدا بیٹھا ہے وہ بلا کسی واسطہ کے تمہیں کہے اور تم اس پر عمل کرو اسی کا نام عشق ہے اور اسی عشق کا متوالا دنیا میں کامیاب ہوا کرتا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا شخص اگر کسی جگہ صرف ایک ہے تو وہ دو ہو جائیں گے اور دو ہوں تو چار ہو جائیں گے اور چار ہوں تو آٹھ بن جائیں گے۔یہ چیز ہے جس کو لے کر جاؤ اور یہی چیز ہے جو تمہیں کامیاب بنا سکتی ہے۔میں نے اپنی شدید تکلیف کی حالت میں آپ لوگوں کو یہ باتیں کہی ہیں اور اس امید پر کہی ہیں کہ یہ باتیں صحیح نتیجہ پیدا کر سکتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک آدمی بھی ایسا پیدا ہو جائے تو بہت بڑی کامیابی ہو سکتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں صحیح عشق پر قائم کرے اور دلائل کی دلدل سے نکالے۔ہمارے یہ دلائل کیا چیز ہیں جب ہمیں خدامل گیا تو ہمیں ان دلائل کی کیا ضرورت ہے۔بھول جاؤ اس بات کو کہ لڑائی کیا ہوتی ہے، بھول جاؤ اس بات کو کہ بھا گنا کیا ہوتا ہے، تمہارے دل میں سب کیلئے جلن ہو ، تمہاری آنکھوں سے محبت کے آنسو رواں ہوں اور تم اپنے نفس پر دوسروں کیلئے موت وارد کرو۔مجھے ساری اُردو شاعری میں سے سوز اور مصیبت کی گھڑیوں میں صرف ایک ہی شعر یاد آیا کرتا ہے جو یہ ہے۔دل میں اک درد اُٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانیے کیا یاد آیا جب عشق پیدا ہوتا ہے تو انسان سب کچھ پھول جاتا ہے۔اسے پتہ ہی نہیں رہتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔وہی سوز جس کو انسان خود بھی نہیں سمجھ سکتا اور وہی درد جس کو وہ خود بھی نہیں بیان کر سکتا اور کہتا ہے خبر نہیں مجھے کیا ہو رہا ہے۔یہ عشق جس میں انسان کہتا ہے کہ مجھے کچھ ہونے لگا الفاظ