انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 14

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۴ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف کوئی طاقت نہیں تمام طاقتوں کا منبع اللہ تعالیٰ کا ہی ہاتھ ہے پس وہ تمہیں جتنا زیادہ دکھ دیں تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم اتنی ہی زیادہ ہمدردی سے ان کے ساتھ پیش آؤ۔یہ وہ رنگ ہے جس سے ہم دنیا کو فتح کر سکتے ہیں اور میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر ہم میں چند سو ہی ایسے لوگ پیدا ہو جائیں تو دنیا کا نقشہ بدل جائے۔پس درد و سوز اور گداز کے ساتھ نکلو۔تم ماریں کھاؤ مگر ہاتھ نہ اُٹھاؤ، تمہاری آنکھوں سے آنسو رواں ہوں ، دل میں درد اٹھ رہا ہو، سینے میں جلن پائی جاتی ہو اور تم محسوس کرتے ہو کہ یہ تمہارا بھائی ہے جو تباہ ہو رہا ہے۔ایک دفعہ تجربہ کر کے دیکھو گاؤں کے گاؤں اس طریق سے احمدیت میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔یہی گر ہے جو تمہیں کا میاب بنائے گا۔افسوس میں نے دو تین سال سے کئی بار اس کی طرف توجہ بھی دلائی مگر ابھی ایک بھی ایسا نہیں نکلا جس نے اس بات پر عمل کیا ہو۔کئی ہیں جو نرمی کے معنی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ تبلیغ کیلئے گئے مگر جب مخالفت ہوئی تو واپس آگئے۔یہ نرمی نہیں بلکہ کم ہمتی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ دلیر دنیا میں اور کوئی نہیں ہو سکتا مگر کیا دنیا میں کوئی ایک شخص بھی یہ ثابت کر سکتا ہے کہ آپ نے کبھی بُزدلی دکھائی۔روحانی جرنیلوں کا ذکر جانے دو۔۱۲ نپولین کو ایک دفعہ شکست ہو چکی تھی ، اُس کی فوج کے پاس گولہ بارود ختم ہو گیا، انگریزی فوجوں نے اُس کی فوج پر متواتر گولے پھینکنے شروع کر دیئے مگر جب کہ گولے یکے بعد دیگرے گر رہے تھے نپولین کی فوج اسی حالت میں کھڑی رہی۔ایک جرنیل کہتا ہے میں ایسے موقع پر نپولین کی فوج میں گیا اور کہا تم مقابلہ کیوں نہیں کرتے وہ کہنے لگے ہمارے پاس گولہ و بار و دختم ہو گیا ہے۔جرنیل کہتا ہے میں نے کہا کہ پھر بھاگتے کیوں نہیں ؟ وہ کہنے لگے نپولین نے ہمیں بھا گنا سکھایا ہی نہیں۔جولڑ نے والی چیز تھی وہ ہمارے پاس نہیں اور بھا گنا ہم نے سیکھا نہیں اس لئے اب ہم کریں تو کیا کریں۔تو نپولین جو دنیا کا معمولی سردار تھا اُس کی فوج کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے بھا گنا سیکھا نہیں مگر ہم میں سے بعض لوگ نہایت نادانی سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ قرآن نے ہمیں بھا گنا سکھایا ہے۔نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ۔قرآن تو کہتا ہے جو دشمن کے مقابلہ سے بھاگتا ہے وہ اپنا دوزخ میں ٹھکانہ بناتا ہے۔سا جو بھاگتا ہے وہ بُزدل ہے اور جو اُس پر ہاتھ اُٹھاتا ہے جس پر نہیں اُٹھانا چاہئے وہ ظالم ہے۔جس چیز کو اسلام پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ تم گالیاں سنتے جاؤ ، ماریں کھاؤ، مگر اپنا کام کئے جاؤ۔یہ وہ چیز ہے جسے اسلام پیش کرتا ہے اور جب ایسا موقع پیش آئے تو یہاں بھی عشق سے کام لو دلیل