انوارالعلوم (جلد 13) — Page 78
ZA انوار العلوم جلد ۱۳ میری ساره وہ فارسی اور عربی میں اچھی خاصی مہارت رکھتی تھیں فارسی شعر انہیں بہت یاد علمی قابلیت تھے ، عربی میں صرف ونحو انہیں خوب آتی تھی ، حتی کہ وہ بعض وقت اپنے نئے اُستادوں کو دق کر دیتی تھیں۔عربی ادب میں کمی تھی ، اسے انہوں نے نئی کلاس میں پورا کرنا شروع کیا۔انگریزی بالکل نہ جانتی تھیں، اس وجہ سے اس طرف زیادہ توجہ کرنی پڑتی اور باقی مضامین پر اس کا اثر پڑتا۔بہر حال انہوں نے ۱۹۲۹ ء میں پنجاب یونیورسٹی کے مولوی کا امتحان دیا اور پنجاب میں تیسرے نمبر پر پاس ہوئیں۔انگریزی کی تعلیم اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ پہلے وہ کچھ انگریزی کی تعلیم حاصل کر لیں اور بعد مشورہ یہ تجویز قرار پائی کہ وہ بجائے خالی انگریزی کا امتحان دینے کے میٹرک کا پورا امتحان دے دیں چنانچہ انہوں نے اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلّمہا اللہ تعالیٰ نے دو سال بعد ۱۹۳۱ ء میں میٹرک کا امتحان دیا اور دو سال میں ہی گویا پانچ سال کی پڑھائی ختم کر کے اچھے نمبروں پر انٹرنس میں پاس ہوئیں۔اس کے بعد عربی تعلیم کے شروع کرنے سے پہلے میں نے مناسب سمجھا کہ وہ انگریزی تعلیم ختم کر لیں اور انہیں ایف۔اے کی تیاری پر لگا دیا۔ایف۔اے کی تیاری میں بہت سی مشکلات ایف۔اے کی تعلیم میں مشکلات پیش آئیں۔استاد ملنے مشکل ہوئے اور فلاسفی اور تاریخ کے پرچوں کی تیاری بالکل ادھوری رہی۔تاریخ کیلئے تو برا بر دو سال تک کوئی اُستاد نہ ملا۔فلاسفی کیلئے بھی صرف ایک دو ماہ انتظام ہو سکا اور اس طرح محنت ، فکر اور گھبراہٹ نے سارہ بیگم کی صحت پر بہت بُرا اثر ڈالا۔ان ایام میں اُن کی آواز سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کوئی خالی چیز بجتی ہے مگر پھر بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری۔بیچ میں کئی دفعہ بیمار پڑیں اور بعض حصے کتابوں کے بالکل رہ گئے جس کے لئے آخری ایام میں انہیں دُہری محنت اُٹھانی پڑی لیکن باوجود اس محنت کے بوجہ نا مناسب حالات کے اپنی صحت بھی خراب کی اور امتحان میں بھی کامیاب نہ ہوسکیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کو دیکھ کر انہیں جو ہمیشہ کامیاب رہتی تھیں اس ناکامی کے صدمہ سے محفوظ رکھا کیونکہ اس کی رحمت نے نتیجہ سے پہلے ہی انہیں اُٹھا لیا۔سارہ بیگم کا خط بہت اچھا تھا بہت سے مردوں سے بھی زیادہ عمدہ خط اور زود نویسی اچھا تھا اور میرے خط سے تو بہت ہی بہتر تھا۔خوب