انوارالعلوم (جلد 13) — Page 77
انوار العلوم جلد ۱۳ LL میری ساره اس کے معنی لکھے تھے ” زن شادمان کن“ اس انکشاف حقیقت سے مجھے بے حد خوشی ہوئی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فی الواقعہ اسم باکسٹی بنائے۔میری طبیعت نسبتا اچھی ہے کامل صحت کیلئے دعا کی ضرورت ہے۔را قیمہ۔آپ کی سارہ ان دوستوں کیلئے جو میری طرح فارسی کا علم کم رکھتے ہیں یا بالکل ہی نہیں رکھتے۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر کا ترجمہ کر دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔اگر تو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسے شخص کی تلاش کر جو خدا تعالیٰ کیلئے اپنے نفس کو کھو چکا ہو اور پھر اس کے دروازہ پر مٹی کی طرح بے خواہش ہو کر گر جا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر۔آہ ! مرحومہ نے اُس وقت جب وہ اپنے نئے گھر میں آئی بھی جو کہا اُسے پورا کر دیا نہ تھی جو کچھ کہا تھا اسے لفظاً لفظاً پورا کر دکھایا۔اس کی زندگی رو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا شعر کی مصداق ہو کر رہ گئی۔وہ اس عقیدت سے آئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دروازہ پر جس نے اللہ تعالیٰ کیلئے اپنے نفس کو کھو دیا تھا گر جائے اور پھر اپنے پیدا کرنے والے کی رضا کی تلاش میں اس دروازہ کی مٹی ہو کر رہ جائے ، ہمیشہ کیلئے اپنے وجود کو کھو دے۔ایک مشتِ خاک ہو جس میں کوئی جان نہ ہو۔خواہ اُسے اُٹھا کر پھینک و خواہ اُسے مقدس سمجھ کر تبرک کی طرح رکھ لو۔بخدا ! اُس نے جو کہا تھا وہ پورا کر دیا۔زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی۔وہ حقیقی معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں خاک ہوئی پڑی ہے۔وہ ہمیشہ کیلئے اس آستان پر گر چکی ہے تا خدا تعالیٰ کی رضا اسے حاصل ہو۔اے رحیم خدا! تو اس گری ہوئی کو اُٹھا لے تو اس پر پوری طرح راضی ہو جا۔آمین آخر سارہ اپنے گھر میں آئیں اور ابھی ایک ہفتہ آئی کو نہ ہوا تھا میں مشغولیت کہ تعلیم میں مشغول ہو گئیں۔پہلے میں نے انہیں انگریزی شروع کرائی کہ وہ اس زبان سے بالکل نا آشنا تھیں اور پھر اس خاص کلاس میں داخل کرا دیا کہ جو کسی قد رتعلیم یافتہ مستورات کی اعلی تعلیم کیلئے میں نے کھولی تھی۔