انوارالعلوم (جلد 13) — Page 76
انوار العلوم جلد ۱۳ میری ساره والی کی نیک یاد کو تازہ رکھنے کیلئے درج کرتا ہوں۔جب یہ خط مجھے ملا اس وقت بھی میری آنکھیں پر نم تھیں اور آج بھی کہ وہ خط میری آنکھوں کے سامنے اس نہ واپس لوٹ سکنے والے زمانہ کو سامنے لا رہا ہے، میری آنکھیں اشکوں سے پر ہیں۔اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی اور مرحومہ پر بھی رحم فرمائے کہ اگر ہم گندے ہیں تو بھی اس کے ہیں اور نیک ہیں تو بھی اس کے ہیں۔وہ خط یہ ہے۔د ۲۴۔اپریل ۱۹۲۵ء۔از احمد یہ ہاؤس بھاگلپور بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میرے واجب الاطاعت خاوند السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ عید کی نماز کے معاً بعد آپ کا نامہ ملا۔دریافت حالات سے خوشی ہوئی۔امید کہ میرا دوسرا خط بھی حضور کی خدمت میں پہنچا ہوگا۔حیران ہوں کہ کیا جواب تحریر کروں۔اللہ تعالیٰ ہی اپنے فضل سے مجھ کو ہر طرح سے آپ کی منشاء اور مرضی کے مطابق بنا کر عملاً اس کا بہترین جواب بنے کی توفیق بخشے ورنہ من آنم کہ من دانم۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مجھے بہ حیثیت آپ کی بیوی ہونے کے اپنے عظیم الشان فرائض کی ادائیگی کی ہمت و طاقت عطا فرمائے اور ہر ایک تنگی و رشی کو اس راہ میں برداشت کرنے کی توفیق دے۔میں اپنے رب سے دعا کرتی ہوں کہ وہ میری ہمت و طاقت وعلم و ایمان و ایقان وصحت میں بیش از پیش برکت عطا فرما کر مجھے اس مقصدِ عالی کے حصول میں کامیاب فرمائے۔میں اپنی زندگی کا مسلک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل فرمان کے مطابق بنانے کا فیصلہ کر چکی ہوں۔اللہ تعالیٰ میرا معین و مددگار ہو۔بر آستان آنکه ز خود رفت بیر یار چوں خاک باش و مرضی یاری در آن بجو دعا کرتی ہوں اور کرونگی۔آپ کے لئے خصوصاً اللہ پاک میری زبان میں اثر وقوت عطا فرمائے۔آپ کے خط میں اپنے نام کو مشدد دیکھ کر پہلے متعجب ہوئی۔لفافہ کے اوپر کی عبارت نے اس کے مفہوم کو سمجھنے کی طرف توجہ دلائی کیونکہ میں اس سے ناواقف تھی۔اُردو فارسی لغتوں میں دیکھا۔لیکن کہیں پتہ نہ چلا آ خرمنتہی الادب میں دیکھا اس میں