انوارالعلوم (جلد 13) — Page 56
۵۶ انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے تو کل پر ہونی چاہئے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے تو کل پر ہونی چاہئے فرمودہ یکم مئی ۱۹۳۴ء بر موقع دعوت چائے مولوی فرزند علی خاں صاحب مبلغ انگلستان ) میں قریباً دس دن کی بیماری کے بعد چونکہ آج گھر سے نکلا ہوں اس لئے کرسی پر بیٹھنا بھی میرے لئے ایک حد تک تکلیف کا موجب ہوا ہے لیکن جس تقریب کیلئے آج ہم بلائے گئے ہیں وہ اس قسم کی ہے کہ اس کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں خاموش بھی نہیں رہ سکتا۔سب سے پہلے تو میں اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ میں نہیں جانتا کن وجوہ سے بہر حال واقعات یہ ہیں کہ خان صاحب کے آنے پر جیسا کہ عام دستور چلا آتا ہے، ٹی پارٹیاں ہونی چاہئے تھیں مگر نہیں ہوئیں۔اس وجہ سے میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ شاید درد صاحب کے جانے پر جو خطبات میں نے پڑھئے ان کی وجہ سے بعض لوگوں میں ایک قسم کا خوف پیدا ہو گیا ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم اس میں حصہ لیں تو شاید پرانے سلسلہ میں کوئی ایسی بات پیدا ہو جائے جو ان کیلئے مضر ہو۔گو میں سمجھتا ہوں، میرا یہ خیال درست نہیں تھا کیونکہ آج ہی مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ بعض اور دوست بھی خاں صاحب کو دعوت دینا چاہتے ہیں مگر چونکہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہو چکا تھا، اس لئے جب مجھے اس ٹی پارٹی کی خبر پہنچی تو خاص طور پر خوشی ہوئی لیکن ساتھ ہی ایک چیز تھی جس نے میرے دل پر بُرا اثر پیدا کیا اور وہ یہ کہ یہ دعوت جن لوگوں کی طرف سے تھی کیوں انہوں نے اس کا حلقہ اس حد تک محدود رکھا جس حد تک یہ محدود رکھا گیا ہے۔میں اس بات کے سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں نہ صرف عقلاً بلکہ فطرتا بھی کہ اسلام کی موجودگی