انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 488

انوار العلوم جلد ۱۳ 488 (۳) دونوں طرف کے نمائندے مل کر تفصیلات طے کر لیں۔اور اگر میری مقرہ کردہ شرائط میں تبدیلی مناسب ہو تو وہ بھی تراضی فریقی سے کی جاسکتی ہے اور (۴) ان مراحل کے بعد مباہلہ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے جو تصفیہ شرائط کے بعد پندرہ دن کے وقفہ پر ہو۔ان میں سے ایک بات بھی نہیں جو احرار نے تسلیم کی ہو۔اور باوجود اس کے وہ شور مچا رہے ہیں کہ وہ مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔میرے اس اعلان پر مظہر علی صاحب اظہر نے یہ کہا تھا کہ وہ قادیان میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں۔ان کے الفاظ تھے۔ہم مرزا محمود کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتے کہ وہ مباہلہ سے پہلو تہی کر سکے۔ہاں یہ ضروری وہ گا کہ مباہلہ قادیان میں ہو۔“ ( مجاہد ۲۔اکتوبر ۱۹۳۵ ءصفحہ ۲) چونکہ میں سمجھتا تھا کہ یہ لوگ کم از کم دین کے ایسے اہم معاملہ میں ہنسی مذاق سے کام نہ لیں گے، میں نے اعلان کر دیا کہ اگر قادیان پر انہیں اصرار ہے تو بہت اچھا ہمیں یہی منظور ہے مگر باقی شرائط کا تصفیہ ہو جانا ضروری ہے۔اور میں نے فیصلہ جلد کرانے کے لئے اپنی طرف سے نمائندوں کی ایک کمیٹی بھی مقرر کر دی۔جنہوں نے تصفیہ شرائط کے لئے زعمائے احرار کو الگ الگ رجسٹری چٹھیاں لکھیں مگر ان میں سے کسی کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔اگر احرار ثابت کر دیں کہ یہ رجسٹری چٹھیاں ان کو نہیں ملیں یا یہ کہ انہوں نے ان کا جواب بذریعہ ڈاک دے دیا تھا تو میں ایک سو روپیہ احرار کو انعام دینے کے لئے تیار ہوں۔اور اس غرض کے لئے مسٹر سیف الدین صاحب کچلو کو ثالث ماننے کو تیار ہوں۔جب بھی احرار چاہیں جماعت احمدیہ کا نمائندہ ایک سور و پیہ مسٹر کچلو کے پاس جمع کرا دے گا۔اس کے پندرہ دن کے اندر احرار ا پنا ثبوت کچلو صاحب کے سامنے پیش کر دیں۔اور اگر کچلو صاحب ان کے حق میں فیصلہ کریں تو روپیہ ان کو دیدیں اور اگر فیصلہ ہمارے حق میں ہو یا پندرہ دن کے اندر احرار ثبوت پیش نہ کریں تو روپیہ جمع کرانے والے کو واپس مل جائے۔الغرض احرار کی طرف سے ہمارے کسی خط کا بذریعہ خط جواب نہیں دیا گیا۔آخر بار بار زور دینے پر اظہر صاحب نے میرے نام ۱۴۔اکتوبر کو ایک تاری بھیجا۔( یہ عجیب بات ہے کہ اس موقع پر یہی ہمیں کوئی چٹھی نہیں بھجوائی گئی حالانکہ اس قدر پہلے تار بھجوانا بالکل بے معنی تھا۔) کہ وہ ۲۳ نومبر کو مباہلہ کے لئے آ جائیں گے۔اس کا جواب ناظر شعبہ تبلیغ جماعت احمدیہ کی