انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 487

انوار العلوم جلد ۱۳ 487 اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِي عَلَى رَسُولِهِ الكَريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ھوالناصر کیا احرار واقعہ میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں برادران! السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔کچھ عرصہ سے لیڈران احرار لوگوں پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گویا وہ تو مباہلہ کرنے کے خواہش مند ہیں لیکن امام جماعت احمد یہ اس سے گریز کر رہا ہے۔میں افسوس سے کہنا چاہتا ہوں کہ احرار کا یہ اعلان قطعاً درست نہیں اور تقومی اور طہارت کے بالکل خلاف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ احرار سلسلہ احمدیہ اور اس کے بانی پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ ان کے نزد یک رسول کریم ﷺ کی عزت نہیں کرتے بلکہ آپ کی ہتک کرتے ہیں۔اور اسی طرح یہ کہ بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعت احمدیہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے قادیان کو (نعوذ باللہ من ذالک) افضل سمجھتے ہیں۔اور اگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منور کی اینٹ سے اینٹ بھی بج جائے تو بھی وہ خوش ہوں گے۔میں نے اس الزام کی تردید کی اور ان امور پر جماعت احرار کو مباہلہ کا چینچ دیا۔اور اپنی طرف سے یہ شرطیں پیش کیں کہ (1) پانچ سو یا ہزار آدمی دونوں طرف سے مباہلہ میں شامل ہورں اور یہ لوگ امام جماعت احمدیہ اور ناظران سلسلہ احمدیہ اور پانچ لیڈران احرار کے جن کے نام دیئے گئے تھے اور جن کی شمولیت ضروری قرار دی گئی تھی۔علاوہ ہوں۔(۲) مباہلہ لاہور یا گورداس پور میں ہو۔