انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 484

انوار العلوم جلد ۱۳ 484 تحریف ماننے والے لوگوں کے لئے یہ کوئی عجیب بات نہیں۔لیکن پھر بھی اس طرح اخبار میں دوسرے کے کلام کو محرف کر کے پیش کرنا انتہا درجہ کی دلیر ہے۔ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ میرے مندرجہ بالا فقرہ نے اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ چونکہ ہر شخص اعلی پایہ کا نہیں ہوتا۔اگر کبھی اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ جماعت کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔خصوصاً جبکہ اس کا علم ہونے پر جماعت اس سے برأت ظاہر کر دے۔اس سے یہ کہاں سے نکلا کہ میں نے اقبال کر لیا ہے کہ مجھ سے اور میرے بھائیوں سے اور دیگر احمدیوں سے نعوذ بـالـلـه من ذالک رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوئی ہے۔میں نے تو اپنے سابق اشتہار میں خدا تعالیٰ کی مؤکد عذاب قسم کھائی تھی کہ رسول کریم ملا فضل الرسل اور سید ولد آدم تھے۔“ کیا آپ کی ہتک کرنے والا شخص یہ قسم اور مؤکد بغداب قسم کھا سکتا ہے۔یہ تو میری قسم ہے۔اس کے علاوہ مباہلہ کے جو الفاظ مباہلین کے لئے (جن میں میں میرے بھائی اور دوسرے احمدی شامل ہوں گے میں نے تجویز کئے ہیں۔اس عبارت پر مشتمل ہیں۔”ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔اگر ہم رسول کریم ﷺ پر کامل یقین نہ رکھتے ہوں۔آپ کو خاتم النبین نہ سمجھتے ہوں آپ کو افضل الرسل یقین نہ کرتے ہوں اور قرآن کریم کو تمام دنیا کی ہدایت اور راہ نمائی کے لئے آخری شریعت نہ سمجھتے ہوں۔“ (الفضل ۶۔اکتوبر ) جب اس اخبار میں جس کا فقرہ اظہر صاحب نے نقل کیا ہے۔یہ الفاظ موجود ہیں جو مباہلہ کے وقت میں اور میرے بھائی اور دیگر احمدی کہیں گے تو کس طرح کوئی عقل مند اس فقرہ کے یہ معنی کر سکتا ہے کہ میں نے تسلیم کر لیا ہے کہ ہم نے رسول کریم ﷺ کی ہتک کی ہے۔دوسروں کی تحریروں میں غلطی کا امکان میں نے جو بات کہی ہے صرف یہ ہے کہ ہر جماعت میں بعض لوگ جہاد کی وجہ سے یا بعض منافق جماعت کو بدنام کرنے کے لئے ایسے امور شائع کر دیتے ہیں یا بیان کر دیتے ہیں جو اس جماعت کے اعتقاد کے خلاف ہوتے ہیں۔اگر جماعت کو اطلاع ہوتی ہے تو وہ ان کی تردید کر دیتی ہے۔پس چونکہ دوسروں کی بعض تحریروں میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔اس لئے حجت صرف بانی سلسلہ کی تحریروں سے پکڑی جاسکتی ہے۔اور یہ ایسی بات