انوارالعلوم (جلد 13) — Page 483
انوار العلوم جلد ۱۳ 483 ہے۔بہر حال دوسروں کی تحریر حجت نہیں ہو سکتی۔“ (الفضل مطبوعہ ۶۔اکتوبر ) اس فقرہ کو نقل کر کے مسٹر مظہر علی صاحب اظہر لکھتے ہیں۔کہ اس عبارت میں مرزا صاحب نے صاف الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ ان کی اور ان کے بھائیوں اور متبعین کی تحریروں میں توہین رسول کریم ﷺ اور تو ہین مکہ معظمہ و مدینہ منورہ موجود ہے۔چونکہ مرزا صاحب نے اقبال جرم کر لیا ہے، اس لئے ہم نے انہیں مجبور نہیں کیا۔( مجاہدہ ۵۔اکتو بر صفحہ ۷ کالم ۳) میرا پہلا جواب تو اس کے متعلق یہ ہے کہ لعنة الله علی الکاذبین اور یہ کہ اگر اس اور عبارت سے یہ مطلب نکلتا ہو۔یا میرے دل میں کوئی ایسی بات ہو تو اللہ تعالیٰ کا عذاب مجھ پر اور میری اولاد پر ہو۔اگر مسٹر مظہر علی صاحب میں کوئی تخم دیانت باقی ہے اور انہوں نے صحیح سمجھ کر یہ فقرات لکھے ہیں۔تو کیا وہ جرآت کریں گے کہ وہ بھی ایک اعلان کر دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس فقرہ کا یہی مطلب ہے کہ مرزا محمود احمد اور اس کے بھائی اور جماعت احمد یہ رسول کریم ﷺ کی بہتک کیا کرتی ہے اور اس میں اقبال جرم ہے۔اور اگر میں اس بیان میں لوگوں کو دھوکا دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر اور میرے بیوی بچوں پر لعنت نازل ہو۔اظہر صاحب کے لئے اس قسم کی لعنت کا اعلان کرنا بڑی بات نہیں کیونکہ وہ جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے نزدیک حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ پر لعنت بھیجنا بھی کارثواب سمجھا جاتا ہے۔اگر اپنے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے انہوں نے لعنت طلب کر لی جس کا طلب کرنا ان پر واجب ہو گیا ہے تو یہ انہیں زیادہ گراں نہیں گزرنا چاہئے۔مسٹر مظہر علی صاحب نے تحریف کی دوسرا جواب میں یہ دینا چاہتا ہوں کہ اظہر صاحب نے اپنی سہولت کے لئے اس فقرہ میں تحریف کی ہے۔میرا اصل فقرہ یہ ہے۔اور احمدیوں سے بعض دفعہ غلطی بھی ہو جاتی ہے۔اور پھر ان کی غلطیوں کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔لیکن بہر حال دوسروں کی تحریر حجت نہیں (الفضل مطبوعہ ۶۔اکتوبر ) ہو سکتی۔ناظرین دیکھیں کہ مسٹر مظہر علی صاحب اظہر نے کس طرح تحریف سے کام لیا ہے۔ایک نہایت ضروری فقرہ جو دو فقروں کے درمیان ہے، خاموشی سے اڑا دیا ہے۔قرآن کریم میں