انوارالعلوم (جلد 13) — Page 482
انوار العلوم جلد ۱۳ 482 ۴۔مجلس احرار ہمیں یہ تحریری وعدہ دے کہ مباہلہ کے دن اور اس سے چار دن پہلے اور چار دن بعد کوئی اور جلسہ یا کا نفرنس سوائے اس مجلس کے جو مباہلہ کے دن بغرض مباہلہ منعقد ہوگی وہ منعقد نہیں کریں گے۔اور نہ جلوس نکالیں گے اور نہ کوئی تقریر کریں گے۔اور یہ تحریر مجاہد میں بھی شائع کر دی جائے۔۵۔یہ کہ ان کی طرف سے مباہلہ کرنے والوں کے سوا جن کی فہرست ان کو پندرہ دن پہلے سے دینی ہوگی کوئی شخص باہر سے نہ تحریری نہ زبانی بلایا جائے گا۔نہ وہ (اس صورت میں کہ انہیں ہماری ضیافت منظور نہ ہو ) کسی کی رہائش کا یا خوراک کا جماعتی حیثیت میں یا منفردانہ حیثیت میں مذکورہ بالا نو ایام میں انتظام کریں گے۔۶۔مباہلہ کی جگہ پر مباہلہ کرنے والوں اور منتظمین اور پولیس کے سوا اور کسی کو جانے کی اجازت نہ ہوگی۔اگر وہ مذکورہ بالا باتوں پر عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو ہر حق پسند شخص تسلیم کرے گا کہ احرار کی نیت مباہلہ کی نہیں بلکہ اس بہانے سے قادیان میں کانفرنس کرنے کی ہے۔پس میں یہ واضح طور پر کہ دینا چاہتا ہوں کہ اس صورت میں ہم قادیان میں نہیں بلکہ گورداسپور یا لاہور میں مباہلہ کریں گے۔وہاں بے شک جس قدر آدمیوں کو چاہیں بلالیں۔گو اس صورت میں بھی مباہلہ کرنے والوں کے علاوہ دوسرے آدمیوں کو میدان مباہلہ میں آنے کی اجازت نہ ہوگی۔میرے اس اعلان کے بعد بغیر شرائط طے کئے کے اور بغیر ایسی تاریخ کے مقرر کئے کے جو دونوں فریق کی رضا مندی سے ہو۔اگر احرار ۳۳۔نومبر یا اور کسی تاریخ کو قادیان آئیں تو اس کی غرض محض کا نفرنس ہوگی نہ کہ مباہلہ۔اور اس صورت میں اس کی ذمہ داری یا تو حکومت پر ہوگی یا احرار پر۔جماعت احمدیہ پر اس کی کوئی ذمہ واری نہ ہوگی۔ایک افتراء کی تردید مباہلہ کے تعلق تو جو کچھ میں نے لکھنا تھا لکھ دیا ہے مگر میں ایک اور افتراء کی بھی جو مظہر علی صاحب اظہر نے میری نسبت کیا ہے تردید ضروری سمجھتا ہوں۔مسٹر اظہر صاحب نے اپنے جواب میں میرے خطبہ سے ایک فقرہ جو ذیل میں درج ہے۔نقل کیا ہے۔تحریریں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہوں، کسی اور احمدی کی نہ ہوں۔کیونکہ اور احمدیوں سے بعض دفعہ غلطی بھی ہو جاتی