انوارالعلوم (جلد 13) — Page 451
451 انوار العلوم جلد ۱۳ جماعت احمد یا کناف عالم تک پھیل کر رہے گی ہوائیں بھی مگر اس پودے کو جڑ سے نہیں اُکھاڑ سکیں گی بلکہ وہ بڑھتا چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ مضبوط ہو جائے گا اور دنیا کی مخالفانہ ہواؤں کا کچھ نہ کچھ مقابلہ کرنا شروع کر دے گا۔اس وقت زور زور کی آندھیاں چلیں گی اور اسے جڑ سے اُکھاڑ نا چاہیں گی گویا وہ پودا جتنا بڑھتا جائے گا اتنی ہی اس کی مخالفت ترقی کرتی جائے گی مگر آخر وہ وقت آئے گا جبکہ اس کی جڑیں مضبوط ہو جائیں گی اور دنیا کے حوادث اور مخالفت کی آندھیاں اسے اپنی جگہ سے کبھی پہلا نہ سکیں گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔يُعْجِبُ الزُرّاع جس طرح کسان اس درخت کو دیکھ کر جوز ور کی آندھیاں چلنے کے باوجود اپنے مقام سے نہیں ہل سکتا خوش ہو کر کہتا ہے کہ اب یہ کتنا مضبوط درخت بن گیا۔اسی طرح جب مسیح موعود کی جماعت ترقی کرے گی اور اکناف عالم تک اپنی شاخوں کو پھیلا دے گی تو اسوقت خدا تعالیٰ خوش ہو کر کہے گا بتاؤ تو کوئی شخص ہے جو اسے ہلا سکتا ہو۔تب وہی آندھیاں جو پہلے اسے جھکا دیتیں ہلا دیتیں اور خطرات میں مبتلاء کر دیتی تھیں، آئیں گی اور یوں گزر جائیں گی کہ پتہ بھی نہیں لگے گا۔گویا اس کی مثال اس بیل کی سی ہو گی جس کے متعلق لوگوں نے یہ بات بنائی ہوئی ہے کہ اس کے سینگ پر ایک دفعہ کوئی مچھر بیٹھا تو تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد کہنے لگا اگر تم تھک گئے ہو تو میں اُڑ جاؤں۔بیل نے کہا مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ تم بیٹھے کب تھے اڑنے کے متعلق میں کیا کہہ سکتا ہوں۔تو اللہ تعالیٰ احمدیت کو ایک دن ایسا مضبوط کرے گا کہ حوادثات زمانہ کا اسے پتہ ہی نہیں لگے گا۔بے شک وہ ترقی کا زمانہ ہو گا بے شک وہ دنیوی کا میابی کا زمانہ ہوگا بے شک وہ آراموں اور سکھوں کا زمانہ ہو گا مگر اے عزیز و! میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ آج کے دکھوں سے بڑھ کر وہ برکت والا زمانہ نہیں ہوگا۔اگر آج ایک مومن کو کھڑا کر کے دکھایا جائے کہ ان مصائب کے بدلہ میں جنت میں اس کے لئے کتنے بلند مدارج مقرر کئے گئے ہیں، کتنی عظیم الشان اُخروی ترقیات کا ابدی انعام اسے دیا جانے والا ہے، کتنی عزت اور رفعت کا اسے مالک بنایا جانے والا ہے اور پھر اسے دکھایا جائے کہ دنیا میں احمدیت کس طرح ترقی کرے گی اسے نظر آئے کہ کس طرح حکومتیں احمدی ہیں، بادشاہ احمدی ہیں اور لوگ ہاتھ جوڑ جوڑ کر انہیں سلام کر رہے ہیں۔کس طرح احمدیت لوگوں کے قلوب کو فتح کر چکی ہے۔غرض اس زمانہ کے لوگوں کی دنیوی شان دکھا کر اگر وہ اخروی جزاء دکھائی جائے جو موجودہ زمانہ کے مصائب کا نتیجہ ہے اور پھر پوچھا جائے تم دنیا میں حکومت کے تخت پر بیٹھو گے یا