انوارالعلوم (جلد 13) — Page 408
408 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات ساتھ لے لیا تا کہ اسے خدمت کرنے کا موقع مل سکے۔پھر خیال آیا کہ گو آپ امیر آدمی ہیں لیکن بعض دفعہ اُمراء پر بھی مصائب آ جاتے ہیں شاید آپ کو روپیہ کی ضرورت ہو۔اس پر جتنا روپیہ میرے پاس تھا وہ میں نے ہمیانی میں ڈال کر کمر میں باندھ لیا۔پھر خیال آیا شاید جان دینے کی ضرورت ہو اس لئے میں نے تلوار گلے میں لٹکا لی اس تیاری میں دیر لگ گئی۔اب میں حاضر ہوں اور جہاں کہتے ہو چلنے کیلئے تیار ہوں۔یہی سچے مومن کی مثال ہے۔جب اُسے خدا تعالیٰ کیلئے بلایا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میری جان اور مال سب کچھ حاضر ہے لیکن جو ایسے موقع پر دیر کرتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہیں اور حضرت مسیح موعود کے متعلق حضرت عیسی علیہ السلام نے جو پیشگوئی کی ہوئی ہے اُس میں فرماتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے دولہا نے آنا ہو اور دس کنواریاں اُس کے انتظار میں اپنے دیووں میں تیل ڈال کر بیٹھ جائیں۔ان میں سے پانچ نے تو زائد تیل لے لیا اور پانچ نے نہ لیا جب آدھی رات کے وقت دولہا آیا تو اُس وقت تک دیئے بجھ چکے تھے۔جن کے پاس تیل تھا انہوں نے جھٹ اپنے دیوں میں تیل ڈال لیا لیکن جن کے پاس تیل نہ تھا، انہوں نے اپنی سہیلیوں سے تیل مانگا مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ شاید ہمیں پھر ضرورت ہو تم بازار سے جا کر تیل خرید و۔وہ تو بازار چلی گئیں اور دولہا تیل والیوں کو لے کر قلعہ میں چلا گیا۔جب دوسری سہیلیاں تیل لے کر واپس ہوئیں تو قلعہ کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر دروازہ نہ کھولا گیا اور انہیں یہ جواب ملا کہ جو صحیح طور انتظار کر رہی تھیں انہیں موقع دے دیا گیا اور جو غافل ہو گئیں اُن کے لئے دروازہ نہیں کھولا جا سکتا۔پس یاد رکھو کہ تم میں سے وہی خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہوگا جو پوری طرح ۲۴ مُستعد رہے گا۔یا د رکھو کہ اب ایسا وقت آ گیا ہے کہ آپ لوگوں کو دو میں سے ایک چیز قبول کرنی ہوگی۔یا تو وہ زندگی قبول کرو جس کے بعد کوئی زندگی نہیں یا پھر وہ موت قبول کرو جس کے بعد کوئی موت نہیں۔وہ جو بظاہر زندگی ہے خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس کے بعد زندگی نہیں اور وہ جوموت ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس کے بعد حیات ابدی ہے۔میں نے جو اخراجات کیلئے پہلی قسط طلب کی ہے اس کے متعلق اگر چہ سب نے ابھی تک توجہ نہیں کی مگر روپیہ آیا ہے اور جس قدر طلب کیا گیا تھا اس سے بہت زیادہ آیا ہے۔امانت فنڈ کا