انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 407

407 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات ہوں اتنے میں اُن کے نزدیک جا کر میں نے کہا قُل مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ انہوں نے اُسی وقت چھریاں پھیر دیں کہ حکم ہو گیا۔اس رؤیا میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی آواز پر کان نہیں دھرتا اور اُس کے بلانے پر لبیک نہیں کہتا، اُس کی آسمانی بادشاہت میں کوئی قدر نہیں ہوتی اور وہ گوہ کھانے والی بھیڑوں کی طرح سمجھا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ اُس کے فرشتے خود اُسے ذبح کر دیتے ہیں یعنی تباہی میں ڈال دیتے ہیں۔پس ہر وہ شخص جو کہتا تو یہ ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہوں مگر کرتا یہ ہے کہ دنیا کو دین پر مقدم رکھتا ہے وہ میلا کھانے والی بھیڑ سے زیادہ کیا حقیقت رکھتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے اور کوئی لبیک نہ کہے تو خدا تعالیٰ کو اُس کی کیا پرواہ ہے۔کوئی شخص تب ہی مومن ہوسکتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے تو بے اختیار لبیک لبیک کہتا ہوا پہنچ جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی امیر تھا جس کے بہت سے دوست تھے لیکن وہ ایک غریب آدمی سے سب سے زیادہ تعلق رکھا کرتا تھا۔اُس کی بیوی اُسے ملامت کرتی کہ تم اس شخص سے مل کر اپنی ذلت کراتے ہو۔آخر تنگ آکر ایک دن اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ آؤ میں اپنے دوستوں کا تجربہ کرتا ہوں۔چنانچہ وہ اپنی بیوی کو لے کر پہلے ایک امیر دوست کے ہاں گیا اور جا کر کہا میرا دیوالہ نکل گیا ہے اس وقت مجھے پانچ سات ہزار روپیہ دیں۔وہ دوست یہ سن کر بڑی ہمدردی کی باتیں کرنے لگا اور اس نے بڑا افسوس ظاہر کیا لیکن آخر کہنے لگار و پیہ میرے پاس نہیں ہے۔پھر وہ دوسرے اور تیسرے دوست کے پاس گیا مگر کسی نے امداد کرنے پر آمادگی ظاہر نہ کی۔حتی کہ شام تک یہ حالت ہوگئی کہ دوستوں نے اُس کی آواز پر دروازہ کھولنا ہی بند کر دیا اور دروازہ کھولے بغیر ہی اُسے جواب دے دیا جا تا کہ گھر میں نہیں ہیں۔سب سے آخر پر وہ اُس غریب دوست کے ہاں گیا جس پر اُس کی بیوی کو اعتراض تھا اور جس کے متعلق وہ اُسے ہمیشہ یہ کہا کرتی تھی کہ یہ تمہاری شان کے قابل نہیں ہے اس سے تم نے کیوں دوستی رکھی ہوئی ہے۔وہ اُس کے پاس گیا، اُس وقت رات ہو چکی تھی اور جا کر اُس دوست کو آواز دے کر کہنے لگا جلدی باہر آئیے۔جب وہ تھوڑی دیر تک باہر نہ آیا تو بیوی نے کہا دیکھا اس نے بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں کی۔آخر کچھ دیر کے بعد جب وہ باہر آیا تو امیر نے پوچھا اتنی دیر لگانے کی کیا وجہ ہے؟ اُس نے کہا آپ اس وقت کبھی میرے پاس نہ آئے تھے اور آج جب آئے تو میں نے خیال کیا کہ شاید آپ کے گھر میں کوئی تکلیف ہوگی اس لئے میں نے اپنی بیوی کو