انوارالعلوم (جلد 13) — Page 406
406 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات پھر میں نے سادگی کی زندگی بسر کرنے کی تعلیم دی ہے اس لئے کہ تم اعلیٰ قربانیاں کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ۔محنت اور مشقت برداشت کرنے کی تم میں طاقت پیدا ہو مشکلات اور تکالیف برداشت کر سکو اور جب تمہارے پاس مال ہوگا تو تم اعلیٰ قربانی کرنے کے قابل ہوسکو گے۔دل کی قربانی سے مال نہیں مہیا ہو سکتا لیکن جب دل کی قربانی ہوگی اور تمہارے پاس مال بھی ہوگا تو اسے تم پیش کر سکو گے۔پس سادہ کھانا کھاؤ، سادہ کپڑے پہنو اور کفایت شعاری سے گزارہ کرو۔اپنی آمدنی میں سے چندے دو اور ایک حصہ امانت فنڈ میں جمع کراؤ پھر کچھ اپنے پاس بھی جمع کرو۔بعض کہتے ہیں کہ یہ دین کے خلاف ہے مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت خلیفہ اول کو لکھا کہ کم از کم تنخواہ کا ۴/۱ حصہ جمع کرتے جاؤ۔پس نب تک تمہیں یہ آواز نہیں آتی کہ سب کچھ لے آؤ اُس وقت تک کچھ نہ کچھ جمع کرتے جانا چاہئے۔بعض کہتے ہیں کہ کیا یہ صرف تین سال کیلئے ہے مگر بات یہ ہے کہ تین سال کی معیاد تو ایسی ہی ہے جیسا کہ جب کوئی جانور چلتا نہ ہو تو اُسے چلانے کیلئے گھاس دکھائی جاتی ہے پھر جب چل پڑے تو چلتا ہی جاتا ہے۔میں عالم الغیب نہیں ہوں میں نہیں جانتا کہ مشکلات کب تک دور ہوں گی۔میں نے مشکلات دور کرنے کی تدابیر پیش کی ہیں اور یہ خیال کیا ہے کہ جب جماعت ان پر کار بند ہو جائے گی تو پھر ان پر عمل کرتی رہے گی۔پس یہ تدابیر فتح حاصل ہونے تک کے لئے ہیں۔ان پر عمل کرانے کیلئے جبر اس لئے نہیں کیا گیا کہ عمل کرنے والوں کو ثواب زیادہ حاصل ہو۔اگر کوئی ان تدابیر پر عمل نہیں کرتا تو نہ ہم اُسے جماعت سے نکالیں گے اور نہ اُسے بُرا کہیں گے۔یہ جو کچھ پیش کیا گیا ہے یہ ابتدائی سکیم ہے۔بعض اور تدابیر بھی ہیں جن میں سے کئی ایک ایسی ہیں کہ میں سمجھتا ہوں ان پر یقیناً عمل کرنا پڑے گا اور اب وہی ہمارے ساتھ چل سکے گا جو یہ سمجھے گا کہ ”جب اُکھلی میں سر دیا تو پھر موسلوں سے کیا ڈرنا‘ جو اس کے لئے تیار نہیں وہ گھروں میں بیٹھے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک کشف ہے۔آپ نے دیکھا کہ ایک نالی شرقا غربا بہت لمبی صدہا میل تک کھوئی ہے۔اور اس کے اوپر بے شمار بھیٹر میں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک بھیڑ کے سر پر ایک قصاب ہاتھ میں چھری لئے ہوئے تیار بیٹھا ہے اور آسمان کی طرف اُن کی نظر ہے جیسے حکم کا انتظار ہے۔میں اُس وقت اُس مقام پر ٹہل رہا ہوں اور اُن کو دیکھ رہا