انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 318

318 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق طرف سے یہ امر حضرت عیسی علیہ السلام کی فضیلت کے ثبوت میں پیش کیا جاتا تھا کہ بتاؤ جب سب لوگوں کو سوائے حضرت عیسی کے شیطان نے مکس کیا ہے اور تم اسے مانتے ہوتو پھر بانی اسلام اور دیگر انبیاء پر ان کی فضیلت ثابت ہے اور مسلمانوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا مگر باوجود اس کے وہ اس عقیدہ کو اس قدرضروری سمجھتے تھے کہ ہم پر ناراض ہوتے ہیں کہ کیوں ہم اس کے خلاف کہتے ہیں۔مسیح کی دوبارہ آمد ایک اور بہت بڑی غلطی یہ تھی کہ ایک طرف تو یہ کہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے افضل ہیں اور دوسری طرف یہ کہ حضرت مسیح دوبارہ آئیں گئے ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پیش کی ۵۳ جاتی کہ لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِی یعنی اگر موسیٰ و عیسی زندہ ہوتے تو میری اتباع کے سوا انہیں چارہ نہ ہوتا۔مخالفین کی طرف سے اعتراض کیا جاتا تھا کہ جب حضرت عیسی دوبارہ آئیں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کی اصلاح کریں گے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے افضل کس طرح ہو سکتے ہیں اور ہم کس طرح مان لیں کہ اگر وہ آپ کی زندگی میں ہوتے تو ضرور آپ کے تابع ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو مسیح کا نام اس لئے دیا تا یہ اعتراض دور ہو کیونکہ آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کی اور آپ کو جو کچھ حاصل ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہوا۔چھٹی چیز جہاد ہے جس کی طرف میں پہلے بھی اشارہ کر چکا ہوں۔پھر جہاد کا غلط مفہوم اور غلط عقائد نے بھی مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ جب دوبارہ آئیں گے تو کافروں سے جنگ کر کے سب کو مار دیں گے اور سب کچھ مسلمانوں کے قبضہ میں دے دیں گے۔اسی وجہ سے حضرت مرزا صاحب پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے جہاد کا انکار کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے، حالانکہ آپ نے انکار نہیں کیا۔جہاں قرآن جہاد کو فرض قرار دیتا ہے، وہاں کرنا اب بھی فرض ہے۔جب کوئی اس غرض سے حملہ کرے کہ مسلمانوں سے ان کا دین چھڑائے تو حملہ آور سے جو جنگ نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں لیکن حضرت عیسی کے متعلق یہ خیال رکھنے کا کہ وہ جبراً سب کو مسلمان بنا ئیں گئے، نتیجہ یہ ہوا