انوارالعلوم (جلد 13) — Page 317
317 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق تھا کہ انبیاء بھی گناہ کر لیتے ہیں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے، ۴۸ حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق کہتے ہیں کہ انہوں نے چوری کی، ۲۹ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے ناحق خون کر دیا، حالانکہ اس کا مطلب کچھ اور ہے غرضیکہ سب انبیاء پر الزام لگاتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے آکر بتایا کہ انبیاء نمونہ ہوتے ہیں اگر نمونہ گندہ ہو تو دوسرے اس سے کیا ہدایت حاصل کر سکتے ہیں اور جب یہ سمجھ لیا جائے کہ جن کو اللہ تعالیٰ لوگوں کی اصلاح کیلئے بھیجتا ہے وہ گندے ہوتے ہیں تو لوگوں کا پاک بننے سے مایوس ہو جانا لازمی ہے اور اس عقیدہ کے نتیجہ میں مایوسی مسلمانوں میں پیدا ہو چکی تھی۔حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک مقدمہ میں شہادت دیتے ہوئے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے یہاں تک کہہ دیا کہ جھوٹ بول کر بھی انسان متقی رہ سکتا ہے۔یہ نقائص اسی وجہ سے پیدا ہوئے کہ سمجھ لیا گیا تھا کہ نبی جھوٹ بول سکتے ہیں۔مگر آپ نے بتایا کہ نبی گنہگار نہیں ہوتے وہ خدا کی عصمت کے نیچے ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو بطور دلیل پیش کیا اور اعلان کیا کہ میرا کوئی عیب پکڑو اور جب تم مجھ میں کوئی عیب نہیں نکال سکتے تو پہلے انبیاء کوکس طرح گناہ گار قرار دے سکتے ہو۔ایک اور ظلم کی بات یہ تھی کہ مسلمان سمجھتے تھے۔حضرت عیسیٰ مس شیطان اور انبیاء علیہ السلام اور ان کی ماں تو مس شیطان سے پاک ہیں مگر باقی سب انسانوں کو شیطان نے چھوا ہے، حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اسی زمرہ میں شامل کیا جاتا تھا۔حضرت مرزا صاحب نے اس کا بھی رڈ کیا اور بتایا کہ اس عقیدہ سے نبوت پر پانی پھر جاتا ہے اور قرآن و احادیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق صاف طور پر موجود ہے کہ آپ نیکیوں کا مجموعہ تھے۔اگر احادیث میں یہ لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام مکس شیطان سے پاک تھے اللہ تو یہ بھی تو لکھا ہے کہ ہر مومن مرد و عورت جب ملیں تو دعا کریں کہ اے اللہ ! ہمارے اس میل کے نتیجہ میں جو بچہ پیدا ہو وہ شیطان کے مکس سے پاک ہو۔۲۔دراصل یہاں حضرت عیسی اور حضرت مریم کو مشابہت کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ مومن کی مثال عیسی اور مریم کی سی ہوتی ہے اور جو لوگ مسیحی یا مریمی صفات اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں، وہ پاک ہو جاتے ہیں۔غرضیکہ یہ ایک ایسا خطرناک حملہ تھا جس کی وجہ سے ہزار ہا لوگ عیسائی ہو گئے۔عیسائیوں کی