انوارالعلوم (جلد 13) — Page 24
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۴ دنیا میں سچاند ہب صرف اسلام ہی ہے جاسکتا ہے۔اس ترقی کو دیکھ کر اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن بیماریوں کا علاج اب تک نہیں ملایا ناقص علاج ملا ہے ، ان کا علاج بھی مل جائے گا اور یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا تھا کہ ہر ایک بیماری کا علاج موجود ہے، بالکل سچ تھا اور ایک ایسا نکتہ حکمت تھا جسے اس زمانہ کے حالات کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ اس زبر دست ہستی کی طرف سے القا کیا گیا تھا جو نیچر کی پیدا کرنے والی اور اس کی طاقتوں سے واقف ہو۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی کہ ہر مرض کا علاج موجود ہے،صرف اسی رنگ میں تائید نہیں ہوئی کہ بعض امراض جو پہلے 10 علاج یا بمشکل علاج پذیر مجھی جاتی تھیں، ان کیلئے اب مفید اور سہل علاج دریافت ہو گئے ہیں بلکہ اس طرح بھی کہ کئی طریق علاج نئے دریافت ہوئے ہیں جن سے علاوہ لا علاج امراض کے علاج معلوم ہونے کے دوسری امراض کے علاج میں بھی سہولت پیدا ہوگئی ہے اور یا تو صحت کا حاصل ہونا پہلے سے آسان ہو گیا ہے یا دواؤں کی قیمت اور خرچ میں کفایت ہوگئی ہے۔علم طب میں ترقی جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کلمہ حکمت بیان فرمایا، اُس وقت علم طب کی صرف دو شاخیں تھیں یعنی یونانی اور ویدک۔باقی سب علاج انہی کی شاخیں تھیں یا ایسے طریق علاج تھے جو سائنس یا علم کہلانے کے مستحق نہ تھے لیکن اس کے بعد یورپ کی توجہ علم کی طرف پھرنے سے یونانی طریق علاج میں سے نشو و نما پا کر ایلو پیتھک طریق علاج نکل آیا۔اس کے بعد ہومیو پیتھک طریق علاج یعنی علاج بالمثل کی دریافت نے طبی دنیا میں ایک تغیر عظیم پیدا کر دیا اور یہ معلوم کر کے انسان کو سخت حیرت ہوئی کہ اس کی شفایابی کیلئے اللہ تعالیٰ نے نہایت حکمت سے ان ہی ادویہ میں قوت شفا بھی رکھی ہوئی ہے، جن سے اس قسم کی مرض پیدا ہوتی ہے۔گو یا بیماری کے ساتھ ہی اس کا علاج بھی رکھا ہے جو چیز جس قسم کی بیماری بڑی مقدار میں پیدا کرتی ہے اس کی تھوڑی مقدار جو ز ہر یا بداثر ڈالنے کی حد سے نکل جائے ، اسی قسم کی بیماری کے رفع کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔اس طریق علاج سے بہت سے امراض جو پہلے لا علاج سمجھے جاتے تھے ، قابل علاج ثابت ہو گئے اور طبعی علوم میں بہت ترقی ہوئی۔اسی طرح علاج بالماء یعنی ہیڈ رو پیتھی کے معلوم ہونے سے صرف غنسل اور گیلے کپڑوں کی