انوارالعلوم (جلد 13) — Page 25
۲۵ انوار العلوم جلد ۱۳ دنیا میں سچاند ہب صرف اسلام ہی ہے مالش سے بہت سی امراض کا علاج ہونے لگا اور بہت سے گہنہ امراض کے دفعہ کرنے میں اس علاج سے مدد ملی۔ٹولوٹشور میڈ یر یعنی بارہ نمکوں کے علاج کی ایجاد نے علاج کو ایسا آسان کر دیا کہ اب ہر ایک شخص کی مقدرت میں ہو گیا کہ وہ طبیب کے نہ ملنے کی صورت میں آسانی سے بغیر کسی خاص علم کے محض کتاب دیکھ کر معمولی اور روزمرہ کی شکایات کا علاج کر سکے اور صرف ان باره معدنی اجزاء کے ذریعہ جن سے انسانی جسم بنا ہے، تمام بیماریوں کا علاج ممکن ہو گیا۔الیکٹروہومیو پیتھی کے طریق علاج نے طب کے دائرہ عمل کو اور بھی وسیع کر دیا ہے اور بنی نوع انسان کیلئے شفایابی کے دروازے کھول دیئے۔سائکو اپنی لیس کے طریق علاج نے بہت ایسی امراض کے علاج کا دروازہ کھول دیا ہے جو فکر و خیال کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور جن کا علاج صرف دواؤں سے ہونا ناممکن تھا۔علاج بالتوجہ اور توجہ ذاتی نے شفا کو انسان کے ایسا قریب کر دیا کہ گویاشفا حاصل کرنے کیلئے ارادہ کی دیر ہوتی ہے۔ارادہ کیا اور بہت سی شفا ہوئی۔ویکسین اور سیرم کی ایجاد نے علم طب میں ایک ایسا مفید اضافہ کیا ہے کہ اس کی قیمت کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے۔در حقیقت اس طریق علاج سے ہزاروں لاکھوں مریضوں کو ہر سال ایسے رنگ میں آرام ہوتا ہے کہ اس پر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سگ گزیدہ اور خناق اور کز از وغیر ہا کے علاج اور انفلوئنزا اور محرقہ وغیر ہا کے حفظ ما تقدم میں اس سے اس قدر مد دلی ہے کہ اس پر جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر کیا جائے کم ہے۔بلحاظ زمانہ کے سب سے آخر میں لیکن بلحاظ اثر کے اعلیٰ درجہ کے طریقہ ہائے علاج میں سے آٹو ہیمک طریق علاج کی ایجاد ہے۔جسے امریکہ میں ۱۹۱۰ ء میں ڈاکٹر راجرز نے ایجاد کیا ہے۔اس طریق علاج کے ذریعہ خود بیمار کا خون چند قطرہ لے کر اور خاص طور پر تیار کر کے مریض کے جسم میں پچکاری کے ذریعہ داخل کر کے تمام مزمن امراض کا علاج کیا جاتا ہے اور ان چند سال کے عرصہ میں ہی اس میں اس قدر کامیابی ہوئی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ان مختلف طریقہ ہائے علاج کی دریافت کے علاوہ اور بہت سی ایسی دریافتیں ہوئی ہیں جن سے علاج یا تشخیص کہ جو علاج صحیح کے لئے ضروری ہے، بہت سہل ہو گئی ہے۔مثلاً خوردبین کی ایجاد ہے، اس کے ذریعہ سے ہی معلوم ہوا ہے کہ بہت سی بیماریاں نہایت باریک کیڑوں سے پیدا ہوتی ہیں اور جس وقت بیماری کی تشخیص مشکل ہو اس کے ذریعہ سے معلوم کر لیا جاتا ہے کہ کس مرض کے کیڑے انسان کے جسم میں پائے جاتے ہیں۔یا مثلاً خون کا امتحان ہے اس کے ذریعہ