انوارالعلوم (جلد 13) — Page 153
انوار العلوم جلد ۳ ۱۵۳ رحمة للعالمين دیکھا اور میرا دل تردد میں پڑ گیا۔ایک طرف ان کی شاندار قربانی مجھے ان کی قدر دانی پر مائل کرتی تھی اور دوسری طرف میرا دل سوال کرتا تھا کہ کیا خدا تعالیٰ نے تمام حسن اور خوبی اس لئے پیدا کی ہے کہ اس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے اور اسے ترک کیا جائے ؟ اور کیا اس سے خود اللہ تعالیٰ پر اعتراض نہیں آتا کہ اس نے سب کچھ سلبی فائدے کیلئے پیدا کیا ہے؟ اور حقیقی فائدے کیلئے کچھ بھی نہیں۔میں اسی فکر میں تھا کہ میں نے پھر وہی آواز بلند ہوتی ہوئی سنی۔مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے اس آواز کے مالک کی نگاہ دلوں کی گہرائیوں تک پہنچتی ہے اور انسانی فطرت کی گہرائیاں اس پر روشن ہو جاتی ہیں یا جیسے کوئی دلوں کی واقف اور انسانی خواہشات سے آگاہ ہستی سب کچھ دیکھ کر اسے بتاتی جاتی ہے اور میں نے اس آواز کو جس کی شیرینی کو کوئی شیرینی نہیں پہنچ سکتی اور جس کی دلکشی کے مقابل دنیا کے سارے راگ بے لطف نظر آتے ہیں، یہ کہتے ہوئے سنا کہ نادانو ! تمہارے ظاہری تقدس تمہارے کام نہیں آ سکتے۔تقدس یہ نہیں کہ تم اپنے جسم کو تکلیف دو۔تقدس یہ ہے کہ تمہارے دل صاف ہوں اور بہادر وہ نہیں جو مخالفت سے خائف ہوکر بھاگ جائے۔بہادر وہ ہے جو مخالفت کے میدان میں کھڑا ہو کر دشمن کی بات تسلیم نہ کرے۔خدا نے جس چیز کو پاک بنایا ہے اس سے گناہ پیدا نہیں ہو سکتا۔گناہ تو خدا کے بتائے ہوئے حدود کو توڑنے سے پیدا ہوتا ہے۔اور اے نادانو ! کیا تم یہ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ نے تم پر اپنے ہی حق تو مقرر نہیں کئے۔جب اس نے تم کو مدنی الطبع بنایا ہے تو اس نے تم پر اپنے دوستوں کے بھی اور اپنے ہمسایوں کے بھی اور اپنی قوم کے بھی بلکہ اپنے نفس کے بھی حق رکھے ہیں۔تم ان سب حقوق کو چھوڑ کر اگر رہبانیت کی زندگی بسر کرتے ہو تو تم ایک نیکی کے ارادے سے دس بدیوں کے مرتکب ہوتے ہو اور گناہ کی دلدل سے نکلنے کی بجائے اس میں اور بھی پھنس جاتے ہو۔تمہارا شادیاں نہ کرنا تم میں عفت نہیں پیدا کرتا۔اگر نسلِ انسانی کے فنا کا ہی نام نیکی ہوتا تو خدا تعالیٰ انسان کو پیدا ہی کیوں کرتا ؟ کیا تم اس کام میں نقص نکالتے ہو جو خدا تعالیٰ نے کیا ؟ اور اس کی پیدائش میں تغیر کرتے ہو۔یا د رکھو کہ نیکی یہ نہیں کہ تم نفس کو بلا وجہ دکھ دو۔اور دروازوں کی موجودگی میں دیوار میں پھاند کر آؤ۔بلکہ نیکی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی بتائی ہوئی حد بندیوں کے اندر استعمال کرو۔تا تمہارے اندر صالح خون پیدا ہوا اور تم نیک اعمال پر قادر ہو جاؤ۔میں نے دیکھا یہ بات اس قدر خوبصورت اور یہ نصیحت ایسی پاکیزہ تھی کہ انسانوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر رونق آ گئی اور وہ وحشت زدہ مخلوق جو اپنے سایوں سے بھی ڈرکر