انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 152

۱۵۲ انوار العلوم جلد ۱۳ رحمة للعالمين کا بوجھ اُٹھالے گا۔قیامت کے دن ہر شخص کو اپنی صلیب خود ہی اٹھانی ہوگی اور جو خود اپنی صلیب نہ اٹھا سکے گا وہ نجات بھی نہ پاسکے گا۔سوائے اس کے کہ خدا کے فضل کے ماتحت اس کی بخشش ہو اور خدا تعالیٰ خود کسی کا بوجھ اُٹھا لے۔پس یہ مت کہو کہ انسان فطرتا نا پاک ہے ہاں وہ جو خدا کی دی ہوئی خلعت کو خراب کر دے وہ ناپاک ہے ورنہ خدا کے بندے اس کے قرب کے مستحق ہیں اور قرب یا کر رہیں گے۔میں نے دیکھا اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ دلوں کی کھڑکیاں گھل گئیں۔خالق اور مخلوق کے تعلقات روشن ہو گئے اور مایوسیاں امید سے بدل گئیں لیکن ساتھ ہی خشیت الہی امید کے ہم پہلو آکر بیٹھ گئی اور ہر غلط اتکال اور نا مناسب استغناء کا دروازہ بند ہو گیا۔جو ہمت ہار بیٹھے تھے وہ از سر نو شیطان سے آزادی کی جدوجہد میں لگ گئے اور جو حد سے زیادہ امید لگائے بیٹھے تھے اور دوسروں پر اپنا بوجھ لادنے کی فکر میں تھے انہوں نے دوڑ کر اپنے بوجھ اپنے کاندھوں پر رکھ لئے۔دنیا کی بے چینی دور ہو گئی اور اطمینان دلوں میں خیمہ زن ہو گیا اور اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھا کہ انسانیت خوشی سے اچھل رہی تھی۔میرے دل سے پھر ایک آہ نکلی۔ویسی ہی جیسے ایک معشوق سے دور پڑے ہوئے عاشق کے سینے سے نکلتی ہے۔میں نے دُور اُفق میں بعد زمانی کی غیر متناہی روکوں کو دیکھا اور حسرت سے سر نیچے ڈال دیا۔پھر جذبات سے بھرے ہوئے دل سے میری زبان سے نکلا۔یہ آواز انسانیت کیلئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔میرے دل میں خیال گذرا کہ جس طرح یہ آواز نسل انسانی کیلئے رحمت انسانیت کیلئے رحمت ثابت ہوئی ہے کیا انسانوں کیلئے بھی رحمت ہے؟ کیا انسان جسمانی لحاظ سے بھی اس سے کوئی نفع حاصل کرتا ہے اور اس کا محتاج ہے۔میں اسی خیال میں تھا کہ میں نے دیکھا کچھ لوگ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار اُلٹے لٹکے ہوئے ہیں اور رات اور دن اسی حالت میں عبادت کرتے ہیں اور میں نے کچھ اور کو دیکھا کہ سخت سردی میں سرد پانیوں میں کھڑے ہو کر ذکر الہی میں مشغول ہیں اور ایک اور جماعت کو میں نے گرمی میں بڑے بڑے الاؤ جلا کر ان میں بیٹھے ہوئے یا محبوب میں ہوش و حواس سے کم پایا اور بعض کو میں نے دیکھا کہ انہوں نے عہد کر لیا کہ ہم شادیاں نہیں کریں گے اور عورت خاوند کا اور مرد بیوی کا منہ نہ دیکھے گا اور بعض نے کہا کہ وہ اچھی چیزیں نہیں کھائیں گے بلکہ ہر سال اپنی مرغوب اشیاء میں سے بعض کو ترک کرتے چلے جائیں گے۔میں نے ان لوگوں کو اس حال میں